تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 282

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 21 نومبر 1952ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم سے فارغ کر دیا جائے کیونکہ میں تکالیف کو برداشت نہیں کر سکتا۔میں سمجھتا ہوں کہ ایسے حالات میں ایسے شخص کا ایمان کوئی ایمان نہیں۔اس وقت اس کے لئے دو ہی راستے کھلے ہیں یا تو اپنی جان کی قربانی دے کر دین کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا اور یا مرتد ہو جانا۔دشمن اسے اس سے ورے نہیں چھوڑتا۔دشمن اس دنیا میں اسے ان دو چیزوں میں سے ایک چیز ضرور دے گا۔یا تو وہ اسے مرتد کر دے گا اور یا اسے موت دے گا۔اور جب ارتداد اور موت ایک طرف ہوں تو مال اور جان کی قیمت ہی کیا رہ جاتی ہے۔انسان سمجھتا ہے کہ چلو جہاں دین سلامت رہتا ہے، وہیں چلو، میں اپنی جان کی قربانی دے دیتا ہوں۔دنیوی جنگوں کے موقع پر لاکھوں لاکھ لوگ اپنی جانیں پیش کر دیتے ہیں۔33 پس جب ہمیں اتنی بڑی قربانیاں نہیں کرنی پڑتیں ، جو پہلوں کو کرنی پڑیں یا اب بھی بعض قومیں کر رہی ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ہم قربانی کرنے میں پس و پیش کریں؟ یہ یقیناً ہماری کمزوری کی علامت ہے۔پھر جو لوگ قربانی پیش کرتے ہیں، انہیں بھی دیکھتا ہوں کہ وہ بھی کمزوری دکھاتے ہیں۔انسان کو کم از کم کسی ایک طرف تو ہونا چاہیے۔انسان یا تو خدا تعالیٰ کا ہور ہے یا دنیا کا ہور ہے۔ہمارے ہاں پنجابی میں کہاوت ہے کہ یا توں اس دے لڑ لگ جایا اس دے لڑ لگ جا۔یہ ایک محاورہ ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ تو کسی کے دامن سے وابستہ ہو جا۔کیونکہ دنیا میں عزت اسی کی ہوتی ہے، جو کسی کے دامن سے وابستگی رکھتا ہے۔یا تو خدا تعالیٰ کے دامن سے وابستہ ہو جا اور یادنیا کا دامن پکڑ لے۔یہ نہیں کہ تو کسی کے دامن سے بھی وابستہ نہ ہو۔میں نے بار ہا نو جوانوں کو توجہ دلائی ہے کہ وہ اپنی تعلیم کی طرف توجہ کریں۔وہ ان باتوں کو نہ دیکھیں کہ فلاں قسم کی تعلیم حاصل کرنے سے انہیں فلاں محکمے میں ملازمت مل جائے گی۔حقیقت تو یہ ہے کہ انہیں یہ خیال بھی نہیں کرنا چاہیے کہ انہیں کوئی ملازمت مل جائے گی۔کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ جس ملک کا بھی تمدن اعلیٰ ہے، اس کے کاریگر اور دوسرے پیشہ ور، ملازموں کی نسبت زیادہ مرفہ الحال ہوتے ہیں۔آبادی کا بہت تھوڑ ا حصہ ملازموں کا ہوتا ہے، زیادہ حصہ دوسرے لوگوں کا ہوتا ہے“۔وو پس ہمارا دنیوی حصہ بھی بہت کمزور نظر آتا ہے۔میرے نزدیک جتنے لوگوں کی حکومت کو ضرورت ہے، ان کے علاوہ دوسرے لوگوں کو خود آزاد پیشوں کے ذریعہ روزی کمانے کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔اس سے ملک کو ترقی حاصل ہوگی۔وو۔۔۔۔پس ہمارے نو جوانوں کو محنت کی عادت پیدا کرنی چاہیے۔282