تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 251

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 14 دسمبر 1951ء کوئی دس، بارہ لاکھ کے قریب ہے اور آٹھ لاکھ کے قریب قرضہ لے کر ادا کی گئی ہے۔جس میں خلافت جو بلی فنڈ کا بھی روپیہ ہے۔اس وقت یہ سمجھ کر کہ یہ کام ضروری ہے، میں نے خلافت جو بلی فنڈ سے روپیہ نکالنے کی اجازت دے دی تھی۔جب تحریک جدید روپیہ واپس کرے گی تو پھر خلافت جو بلی فنڈ قائم ہو جائے گا۔بہر حال اکیس لاکھ کے قریب تو یہ ہوا اور سات آٹھ لاکھ روپیہ وہ ہے، جو ان زمینوں کی آمد سے ادا ہوا۔اس وقت اس زمین کی اوسط قیمت تین سو روپیہ فی ایکڑ جھنی چاہیے۔یہاں تو فی ایکڑ ایک ہزار روپیہ سے دو ہزار روپیہ تک بھی قیمت ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قیمت مل جاتی ہے۔اگر وہاں بھی کسی وقت یہی قیمت ہو جائے تو ایک ہزار روپیہ فی ایکڑ کے لحاظ سے ایک کروڑ اور دو ہزار روپیہ فی ایکٹر کے لحاظ سے دو کروڑ روپیہ کی وہ جائیداد بن جاتی ہے۔اور اس طرح تحریک جدید کا دو کروڑ روپیہ کاریز روفنڈ قائم ہو جاتا ہے۔لیکن سردست ہم اس کا صحیح انتظام نہیں چلا سکے۔بعض سالوں میں ہمیں قرض لے کر کام کرنا پڑا ہے۔اس سال بھی پچیس ہزار روپیہ قرض لیا گیا ہے۔لیکن بعض سالوں میں آمد بھی ہوئی ہے ، جیسے کہ میں نے بتایا ہے کہ چھ سات لاکھ روپیہ اس کی آمد میں سے خرچ کیا گیا ہے۔بہر حال اگر یہ زمین صیح طور پر آمد دینے لگ جائے اور قرض ادا ہونے کے بعد اس سے ایک ریز روفنڈ قائم ہو جائے تو خطرہ کے موقع پر ہمیں اس طرح اعلان نہ کرنا پڑے، جس طرح مجھے گذشتہ سال اخباروں میں بار بار اعلان کرنا پڑا کہ دوستوں کو جلدی اپنے وعدے ادا کرنے چاہیئیں ، ورنہ سلسلہ کے کاموں میں تعطل واقع ہو جائے گا۔ایسی صورت میں آسانی سے لاکھ، دولاکھ روپیہ وہاں سے لیا جاسکتا ہے اور سلسلہ کے کاموں میں کوئی حرج واقع نہیں ہو سکتا۔لیکن ابھی وہ وقت نہیں آیا۔کامیابی کے آثار نظر آرہے ہیں اور کام پہلے سے بہتر ہوتا جا رہا ہے، لیکن ابھی بہت کچھ اصلاح کی ضرورت ہے۔مگر یہی کام کافی نہیں۔بڑی چیز یہ ہے کہ جہاں جہاں ہم اپنے مشن قائم کریں، وہاں ہمارا اپنا مکان اور اپنی مسجد بھی ہو۔اس کے بغیر بھی بھی صحیح طور پر کام نہیں ہوسکتا۔اب ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے ایک مشنری نے کوئی مکان کرایہ پرلیا ہوا ہوتا ہے، مگر کچھ عرصہ کے بعد اسے نوٹس مل جاتا ہے کہ مکان خالی کردو۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس مکان کو روشناس کرنے میں جو وقت اور روپیہ صرف ہو چکا ہوتا ہے، وہ سارے کا سارا ضائع چلا جاتا ہے۔اور پھر وہ مبلغ کسی اور مکان میں چلا جاتا ہے، جس کی طرف لوگوں کو کوئی توجہ نہیں ہوتی۔تبلیغ کا کام صیح طور پر تبھی چل سکتا ہے، جب اپنی جگہ ہو۔انگلستان میں اگر چہ دین کی طرف رغبت لوگوں کو کم ہے لیکن چونکہ ہمارا وہاں اپنا مکان ہے، اپنی مسجد ہے اور دیر سے مشن قائم ہے، اس لئے ہمارا وہاں کافی رسوخ ہے۔وزرا ء تک 251