تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 12

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 30 جنوری 1948 ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم لر وہ یہ کام نہیں کر سکتے ، اگر وہ اس اہم امر کی طرف توجہ نہیں کر سکتے تو انہوں نے کرنا کیا ہے؟ کیا ہم نے ان کا مربہ اور اچار ڈالنا ہے؟ یا ہم نے ان کی چٹنیاں ڈالنی ہیں؟ یہی کام ہے، جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دنیا میں مبعوث ہوئے تھے کہ اسلام اور احمدیت کو پھیلایا جائے۔اگر ان کے دلوں میں قرآن و حدیث پڑھنے کا شوق نہیں ، اگر ان کے دلوں میں قرآن وحدیث کا درس دینے کا شوق نہیں تو کیا کام ہے، جو وہ کرنا چاہتے ہیں؟ اور کس غرض کے لئے وہ اپنے آپ کو وقف کرتے ہیں؟ جو کام وہ اس وقت کر رہے ہیں، اس کے لئے تو ایک ہندو اور عیسائی بھی نوکر رکھا جا سکتا ہے۔پس پہلے انہیں اپنے اندر دین پیدا کرنا چاہیے۔پہلے اپنی نمازیں درست کرنی چاہیں۔پہلے قرآن اور حدیث پڑھنے کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔اس کے بعد انھیں دین کی تبلیغ کے لئے نکل جانا چاہیے۔جیسے پرانے زمانہ میں صوفیاء باہر نکلے اور ملکوں کے ملک انہوں نے اسلام میں داخل کر لیے۔یہی ملک جس میں سے آج چھپن لاکھ مسلمان اس طرح بھاگا ہے کہ چنددنوں میں سارا مشرقی پنجاب مسلمانوں سے خالی ہو گیا۔اس ملک میں حضرت خواجہ معین الدین صاحب چشتی آئے اور سارا ملک انہوں نے مسلمان بنالیا۔آخر وہ کیا چیز تھی ، جو خواجہ معین الدین صاحب چشتی " کو حاصل تھی؟ وہ کیا چیز تھی ، جس نے حضرت باوانا تک کو حضرت فرید الدین صاحب شکر گنج والوں کے دروازہ پر لا کر ڈال دیا؟ اگر فرید الدین صاحب شکر گنج والے اپنے عمل اور طریق سے باوانا تک کی آنکھوں کو نیچا کر سکتے تھے تو اگر اس زمانہ کا مسلمان بھی فرید الدین بن جائے تو کیوں وہ سکھ کی آنکھ کو نیچا نہیں کر سکتا ؟ یقیناوہ ایسا کر سکتا ہے۔مگر اس کے لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ قرآن اور حدیث کو پڑھا جائے ، قرآن اور حدیث پر عمل کیا جائے اور قرآن اور حدیث کی تعلیم کو پھیلایا جائے۔اگر اس کام کے لئے ہم تیار ہیں تو یقینا ابتلاؤں پر ہم غالب آ جائیں گے لیکن اگر ہم اس کے لئے تیار نہیں تو ابتلا ہم پر غالب آجائیں گے۔پس میں ایک دفعہ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کے افراد کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اگر وہ اپنی اصلاح کرلیں تو وہ دہرے ثواب کے مستحق ہوں گے۔لیکن اگر انہوں نے اصلاح نہ کی تو جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے، وہ دہرے عذاب کے مستحق ہوں گے۔بہر حال خدا تعالیٰ کی طرف سے جب تک سلسلہ کی یہ حیثیت قائم ہے، جب بھی کوئی آواز بلند ہوگی ، اس آواز کا پہلا مخاطب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا خاندان ہوگا۔اور ان کا فرض ہوگا کہ وہ قرآن پڑھیں ، حدیث پڑھیں اور مختلف ملکوں میں تبلیغ کے لئے نکل جائیں۔تا پھر مسلمان ایک ہاتھ پر جمع ہو کر اسلام کی عظمت کا 12