تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 11
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 30 جنوری 1948ء 034 تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد سوم عزت اپنی تجارتوں اور نوکریوں سے حاصل نہیں کر سکیں گے۔کیونکہ ان کو جو خدا نے عزت دی تھی ، و دوسروں کو نہیں دی۔اور خدا نے ان پر جو فضل نازل کئے تھے، وہ دوسروں پر نہیں کئے۔اس لئے اب اللہ تعالیٰ جو قربانی ان سے چاہتا ہے، وہ بھی دوسروں سے نمایاں ہے۔بے شک اللہ تعالیٰ اپنے دربار میں آگے بڑھنے کا ہر ایک کو موقع دیتا ہے۔مگر جو نہیں آتے یا آ کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں، وہ سب سے بڑے مجرم ہو جاتے ہیں۔پس جن جن لوگوں میں بھاگنے کی روح پیدا ہو رہی ہے، ان کو سمجھ لینا چاہئے کہ وہ اپنا فرض ادا نہیں کر رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں شاید تمام محکمے بند کرنے پڑیں گے اور ہمیں پھر اپنا تمام کام اسی ابتدائی حالت پر لے جانا پڑے گا، جس حالت پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں تھا۔اور شاید وہ وقت بھی آجائے جبکہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اولا پر، اگر ان میں ایمان اور دیانت ہوئی ، یہ تمام بوجھ آ پڑے۔لیکن وہ اس بات کی طرف متوجہ ہیں کہ دوسرے لوگ یہ کام کریں اور ہم اپنے دنیوی کاموں میں مصروف رہیں۔میں سمجھتا ہوں، اب وقت آچکا ہے کہ ہم اس بارہ میں زیادہ سخت قدم اٹھا ئیں گے۔اگر ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہم کسی ست اور کوتاہ بین انسان کو اس کے اعمال کی وجہ سے سلسلہ سے نکال دیں تو یقیناً ہمیں یہ حق بھی حاصل ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نام کو اختیار کرتے ہوئے ، جو لوگ خدمت دین میں حصہ نہیں لے رہے، ان کو ہم خاندان مسیح موعود میں سے نکال دیں۔اگر ہمیں عام احمدیوں کے مقاطعہ کا حق حاصل ہے تو یقینا ہمیں یہ حق بھی حاصل ہے کہ جولوگ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان میں سے دین کی خدمت سے غافل ہیں، ان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے خاندان میں سے نکال دیں۔اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں سے نکالا جا سکتا ہے تو مسیح موعود کی اولاد میں سے کیوں نکالا نہیں جاسکتا ؟ اور اگر دوسرے لوگ قربانیاں کر سکتے ہیں تو مسیح موعود کی اولاد کیوں قربانی نہیں کر سکتی؟ ان کی قربانیاں یقینا دوسروں کے اندر جوش پیدا کریں گی۔اور اگر نہیں کریں گی تو اللہ تعالیٰ ان کی قربانیوں کے ذریعہ ایک نئی جماعت پیدا کر دے گا۔بہر حال ان کا یہ کام نہیں کہ وہ دین سے غافل رہیں ، قرآن اور حدیث سے واقفیت پیدا نہ کریں اور کرنٹے بنے ہوئے چوڑھے عیسائیوں کی طرح پتلونیں پہنے پھریں۔اگر ایسی صورت میں وہ اپنے آپ کو وقف بھی کرتے ہیں تو ان کے وقف کے کوئی معنی نہیں ہو سکتے۔آخر وقف کے بعد ہم ان سے کیا کام لیں گے ؟ یہی کام لیں گے کہ وہ مختلف علاقوں میں جائیں اور تبلیغ کریں۔مگر اس کے لئے انہیں سب سے پہلے اپنا نمونہ پیش کرنا چاہئے۔11