تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 118
خطبہ جمعہ فرمودہ 16 دسمبر 1949ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم سو سال کے بعد خدا تعالیٰ نے اسلام کی عظمت کے دوبارہ سامان پیدا کئے ہیں۔تیرہ سو سال کے بعد تم لوگو ایسے تھے، جن کو خدا تعالیٰ نے اس نور کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی تم میں سے ایک مولوی ایسا کرتا ہے تو اول درجے کا بے ایمان ہے۔تمہارا یہ فرض ہے کہ تم ایسے آدمیوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھو اور انہیں منہ نہ لگاؤ تم میں سے ہر شخص یہ سمجھ لے کہ یہ کالی بھیڑ ہے، یہ بھیڑیا ہے، یہ ایک داغ ہے، جو جماعت کے ماتھے پر لگا ہوا ہے۔تم اسے اگر نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہو اور اسے منہ نہیں لگاتے تو سمجھ لو، دو میں سے ایک بات ضرور ہوگی یا تو وہ اپنی اصلاح کرلے گا اور ہمیں اس بات سے خوشی ہوگی کہ ہمارا ایک بھاگا ہوا بھائی ہمیں دوبارہ آ ملا۔یا پھر وہ بھاگ جائے گا اور اگر وہ بھاگ جائے گا تو خدا تعالیٰ ہمیں ایک لعنت سے بچالے گا۔شاید آپ لوگوں میں سے کوئی شخص کہے کہ اگر کوئی بے ایمان ہے تو اس میں جماعت کی ذمہ داری کیا ہے؟ میں کہتا ہوں، اس میں جماعت کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اسے نفرت کی نگاہ سے دیکھے اور منہ نہ لگائے۔جب کوئی شخص بے ایمان ہوگا تو تمہارے ان جذبات کی وجہ سے یا تو وہ اپنی اصلاح کرلے گا اور یا جماعت سے اپنا رشتہ توڑلے گا۔چوہڑوں کو ہی دیکھ لو، جب وہ کسی کا مقاطعہ کرتے ہیں تو وہ سیدھا ہو جاتا ہے۔کیونکہ وہ قوم کا فرد ہوتا ہے اور جب اس کی قوم اس کا حقہ پانی بند کر دے تو فی الواقع اس کا حقہ پانی بند ہو جاتا ہے۔اس لئے اگر چہ تم تھوڑے ہو لیکن اگر منافقوں کو معلوم ہو جائے کہ تم ایسا کرو گے تو وہ فور سیدھے ہو جائیں گے یا تم کو چھوڑ دیں گے۔قطع نظر اس کے کہ اس میں کسی افسر کی غلطی ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا اس نے فرمانبرداری کی؟ افسر کا حکم ظالمانہ ہی سہی مگر کیا اس نے وہ حکم مانا؟ اس نکتہ کو مد نظر رکھتے ہوئے تمہارا فرض ہے کہ خواہ کوئی شخص تمہارا کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو، جب وہ نافرمانی کرے اور اسے سزا ملے یا اس کے خلاف کوئی اور تادیبی کاروائی کی جائے تو یہ بحث نہ کرو کہ ایسا کیوں ہوا؟ اگر تم میں یہ روح پیدا ہو جائے گی تو منافقین فوراً اپنی اصلاح کرلیں گے یا جماعت کو چھوڑ کر ایک طرف ہو جائیں گے۔اگر چوہڑے ایسا کر سکتے ہیں تو تم ایسا کیوں نہیں کر سکتے ؟ احمدی چوہڑوں سے تو کمزور نہیں۔یہ بھی ایسا کر سکتے ہیں۔لیکن ان میں اتنا جذ بہ نہیں پایا جاتا ، جتنا چو ہڑوں میں پایا جاتا ہے۔اگر یہ جذ بہ بالکل ہی نہ پایا جاتا تو اتنے عظیم الشان کام ہوتے کیسے، جو اس جماعت نے کئے ہیں؟ مگر ابھی اور شدید جذبہ کی ضرورت ہے۔تمہیں یادرکھنا چاہئے کہ جب ہم قادیان میں تھے تو منافق فورا ظاہر ہو جاتا تھا اور خلیفہ کے علم میں آجا تا تھا۔لیکن اب تم ہر جگہ پھیل چکے ہو، اب اگر کوئی منافقت کرتا ہے تو تمہیں اس وقت اس کی منافقت کا پتہ لگے گا، جب سینکڑوں، ہزاروں آدمی تباہ ہو جائیں گے۔افریقہ کی جماعت کو لے لو، وہ 118