تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 88

خطبہ جمعہ فرمودہ 30 ستمبر 1949ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم نہیں۔ہم اپنی اولاد کو مجور نہیںکر سکتے کہ ہ ضرور دین کے پیچھے چلیں۔ہم ان کے دل میں ایمان پیدا نہیں کر سکتے۔خدا ہی ہے، جو ان کے دلوں میں ایمان پیدا کر سکتا ہے۔لیکن ہم یہ ضرور کر سکتے ہیں کہ جو اولا داس منشاء کو پورا کرنے والی نہ ہو، اسے ہم اپنے دل سے نکال دیں۔بہر حال اگر خدا تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں اعلیٰ مقام دے تو ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ صرف ہم ہی نہیں بلکہ ہماری آئندہ نسلیں بھی اس مقام کو دین کا مرکز بنائے رکھیں۔اور ہمیشہ دین کی خدمت اور اس کے کلمہ کے اعلاء کے لئے وہ اپنی زندگی وقف کرتے چلے جائیں۔لیکن ہماری کسی غلطی اور گناہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ یہ مقام ہمیں نصیب نہ کرے اور ہماری ساری اولادیں یا ہماری اولادوں کا کچھ حصہ دین کی خدمت کرنے کے لئے تیار نہ ہو، اللہ تعالیٰ پر توکل اس کے اندر نہ پایا جاتا ہو، خدا تعالیٰ کی طرف انابت کا مادہ اس کے اندر موجود نہ ہو تو پھر ہمیں اپنے آپ کو اسی امر کے لئے تیار رکھنا چاہیے کہ جس طرح ایک مردہ جسم کو کاٹ کر الگ پھینک دیا جاتا ہے، اسی طرح ہم اس کو بھی کاٹ کر الگ کر دیں اور اس جگہ کو دین کی خدمت کرنے والوں کے لئے ان سے خالی کروالیں۔بہر حال میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنے اندر یہ عزم پیدا کرے۔یہ عزم پیدا کرنا، کوئی معمولی چیز نہیں۔بڑے کام، بڑے ارادوں کے ساتھ ہوا کرتے ہیں۔بڑے کام ، بڑے عزم سے ہوا کرتے ہیں اور بڑے کام، بڑی قربانیوں سے ہوا کرتے ہیں۔انسان ہزاروں دفعہ موت سے ڈر کر پیچھے ہتا ہے، حالانکہ وہی وقت اس کی دائمی زندگی کا ہوتا ہے۔جہنم میں جانے والوں میں سے کروڑوں کروڑ انسان ایسے ہوں گے کہ جب ان کے اعمال ان کے سامنے کھولے جائیں گے تو انہیں پتہ لگے گا کہ صرف ایک سیکنڈ کی غلطی کی وجہ سے وہ جہنم میں گر گئے۔اگر ایک سیکنڈ وہ اور صبر کرتے تو خدا تعالیٰ کا فیصلہ ان کے حق میں صادر ہو جاتا۔مگر وہ ایک سیکنڈ پہلے خدا تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہو گئے۔وہ ایک سیکنڈ پہلے بے صبری کا شکار ہو گئے اور صرف ایک سیکنڈ کی غلطی کی وجہ سے دوزخ میں جا گرے۔کروڑوں کروڑ انسان ایسے مقام پر پہنچ کر دوزخ میں چلا جاتا ہے، جب خدا کی طرف سے ان کے ولی بننے کا فیصلہ ہورہا ہوتا ہے۔کروڑوں کروڑ انسان اس وقت بددیانت ہو جاتا ہے، جب خدا تعالیٰ کی طرف سے ان کی دیانت کے قائم رکھنے کے لئے ہر قسم کے مادی سامان بہم پہنچائے جانے کا فصیلہ ہورہا ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ ہمارا امتحان لیتا ہے اور اس میں بعض دفعہ ہم اس وقت فیل ہو جاتے ہیں ، جب امتحان کے پرچوں کا ہمارے حق میں فیصلہ ہونے والا ہوتا ہے۔پیشتر اس کے کہ ہم اپنا پر چہ ختم کرتے اور وہ ہمیں پاس کرتا ، ہم مایوس ہو کر امتحان کے کمرہ سے باہر نکل جاتے ہیں اور اپنی کامیابی کو نا کامی میں بدل لیتے ہیں۔88