تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 791
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 17 اکتوبر 1947ء پڑے گا۔اور جب وہ کسی دوسرے شخص کے پاس اس غرض کے لئے جانے پر مجبور ہوگا کہ روٹی کھائے تو لا ز ماہر غریب سے غریب انسان کے پاس وہ ایک بھائی کے طور پر جائے گا اور ایک بھائی کے طور پر اس سے تعلقات رکھے گا۔وہ غریب کی دل شکنی نہیں کرے گا، وہ اس سے تعلقات رکھنے پر ناک بھوں نہیں چڑھائے گا۔وہ خود بھی خالی ہاتھ ہوگا اور ان لوگوں سے ملنے میں بھی وہ کوئی عار محسوس نہیں کرے گا، جو امارت سے تہی دست ہوں۔پس مال کو گھر میں چھوڑ کر تبلیغ کے لئے نکلنا، ایک نہایت ہی اعلیٰ درجہ کا تبلیغی ذریعہ ہے۔جب اس کا مال اس کے گھر میں ہوگا اور دوسری طرف وہ پندرہ دن کے لئے تبلیغ کے لئے باہر جائے گا تب اس میں اخوت کے وہ جذبات پیدا ہوں گے، جو امیر اور غریب کے تفاوت کو بالکل دور کر دیتے ہیں۔ہر دیکھنے والا ایسے شخص کو دیکھ کر یہی کہے گا کہ یہ ہمارا اپنا بھائی ہے، جو ہمارے ساتھ مل جل کر رہتا ہے، کوئی الگ چیز نہیں۔پس میں ایک دفعہ پھر جماعت میں اعلان کرتا ہوں کہ تمام جماعتیں اپنے اپنے افراد سے تبلیغ کے لئے پندرہ پندرہ دن لیں۔مگر شرط یہی ہوگی کہ جیسے حضرت مسیح علیہ السلام نے کہا کہ تیری جیب میں کوئی پیسہ نہ ہو۔اسی طرح ان کی جیب میں کوئی پیسہ نہ ہو۔وہ جس جگہ تبلیغ کے لئے جائیں ، اسی جگہ کے رہنے والوں سے کھانا کھائیں اور انہیں تبلیغ کریں۔اور اگر کسی گاؤں یا شہر والے کھانا نہ پوچھیں تو حضرت مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں:۔۔۔۔وہ شہر نا پاک ہے۔تو دوسرے گاؤں میں چلا جا اور اس شہر سے باہر نکلتے وقت اپنے پاؤں کی گرد تک جھاڑ دئے“۔و, (متی باب 10 آیت 14) یہ ایک نہایت ہی سچا ذریعہ تبلیغ ہے۔اور یہی طریق ہے، جس پر عمل کرنے کی وجہ سے آج بھی عیسائیوں میں تبلیغ کا جو جوش پایا جاتا ہے، وہ مسلمانوں میں نہیں۔حالانکہ وہ جھوٹے ہیں اور مسلمان بچے۔یہ تفاوت اس لئے ہے کہ مسلمانوں نے كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ کے حکم کو بھلا دیا لیکن عیسائیوں نے اسے یاد رکھا اور منظم طریق پر تبلیغ کی کوشش کرتے رہے۔بدھوں کا یہی حال تھا۔سارے ہندوستان میں انہوں نے اپنا جال پھیلا رکھا تھا۔پھر ہندؤوں نے انہیں اس طرح مارنا شروع کر دیا، جس طرح آج مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کو مارا گیا ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ 877