تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 744
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 17 جنوری 1947ء تحریک جدید کا نام نہیں بلکہ اس کے پیچھے جو روح ہے، وہ قابل عزت ہے وو خطبہ جمعہ فرمودہ 17 جنوری 1947ء میں نے جماعت کو پہلے بھی بہت دفعہ توجہ دلائی ہے کہ تبلیغ کا کام دن بدن وسیع ہوتا جا رہا ہے اور جب تک جماعت خاص قربانی نہ کرے گی، اس وقت تک اس بوجھ کو اٹھانا مشکل نظر آتا ہے۔دوستوں کو معلوم ہے کہ تحریک جدید کی طرف سے ساٹھ کے قریب مبلغ باہر جاچکے ہیں اور میں کے قریب اور جانے والے ہیں۔امید ہے کہ اس سال سو مبلغ غیر ممالک میں چلے جائیں گے۔اس کے علاوہ یہاں باہر جانے والے مبلغین کے قائمقام بھی تیار کئے جارہے ہیں۔اور کچھ واقفین عربی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور کچھ فارغ التحصیل ہونے کے بعد دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ان سب کے اخراجات مل کر اتنے ہیں کہ موجودہ چندہ سے ان اخراجات کو بہت مشکل سے پورا کیا جاتا ہے۔اور آئندہ تو یہ کام اور بھی زیادہ ہو جائے گا اور موجودہ چندہ اس بوجھ کو نہیں اٹھا سکے گا۔چندہ کو بڑھانے کی دو ہی صورتیں ہیں۔ایک تو یہ کہ جماعت تعداد میں بڑھے اور دوسری یہ کہ جماعت کی آمد بڑھ جائے۔یہ دونوں صورتیں ہماری جماعت کے لئے ضروری ہیں۔اگر جماعت کے چندوں میں آئندہ اضافہ نہ ہوتو ریز روفنڈ قائم نہیں کیا جاسکتا۔بلکہ خطرہ ہے کہ یہ بوجھ پہلے ریز روفنڈ کو بھی نہ کھا جائے۔آج ہم پر تحریک جدید کا تیرھواں سال گزر رہا ہے۔اس سال کو اگر نکال دیا جائے تو اس دور میں حصہ لینے والوں کے لئے چھ سال باقی ہیں اور اگر اس سال کو شامل کر لیا جائے تو سات سال ہو جاتے ہیں۔ان لوگوں نے جو پہلے دور میں شامل ہیں، تحریک جدید کے اخراجات کا بوجھ بھی اٹھایا ہے اور ساتھ ایک ریز ورفنڈ بھی قائم کیا ہے اور دفتر دوم والوں کا روپیہ فی الحال جمع ہوتا جارہا ہے۔ہم دفتر دوم کو اس قابل بنانا چاہتے ہیں کہ وہ دفتر اول کے بوجھ کو اٹھا سکے۔مجھے افسوس ہے کہ اس سال وعدوں کی تعداد تسلی بخش نہیں۔بعض جماعتوں نے ابھی تک اپنے وعدے نہیں بھجوائے باوجود اس کے کہ دفتر یاددہانی کروارہا ہے۔وعدوں کے بھجوانے کی آخری تاریخ 10 فروری ہے۔اس کے بعد ان حصوں کے وعدے نہیں لئے جائیں گے، جہاں اردو بولی یا کبھی جاتی ہے۔مثلاً پنجاب، سرحد، یو پی وغیرہ۔لیکن وہ صوبے، جہاں اردو نہیں بولی 825