تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 726 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 726

خطبہ جمعہ فرموده 12 اپریل 1946ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم گرہ کر کے نہیں بیٹھ جاتے ؟ اور کیوں اپنے ماں باپ سے نہیں کہتے کہ آپ ہماری زندگیوں کو کیوں تباہ کرتے ہیں؟ اور کیوں ہمیں خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کے لئے جانے نہیں دیتے ؟ آخر کام تو سامانوں سے ہی ہوا کرتے ہیں، روحانی کام ہوں یا جسمانی۔سب میں اسباب اور سامان ضروری ہوتے ہیں۔اس قانون کے مطابق ہمارے لئے بھی ضروری ہے کہ روحانی ترقی کے اللہ تعالیٰ نے جو سامان پیدا کئے ہیں، ان سے فائدہ اٹھائیں اور ان کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کریں۔اگر ہم ان سامانوں کو حاصل نہیں کرتے تو یقیناً ہم اپنی کامیابی کو دور پھینکتے چلے جاتے ہیں۔خدائی کام تو بہر حال ہو کر رہیں گے اور اسلام دوسرے ادیان پر ضرور غلبہ حاصل کرے گا۔یہ وہ خدائی تقدیر ہے، جو کبھی ٹل نہیں سکتی۔لیکن اگر ہم اسلام کے غلبہ اور اس کی فتح کے دن کو ہر قسم کے اسباب سے کام لے کر اپنے قریب نہیں کر سکتے تو کم از کم ہمیں اس دن کو اور زیادہ دور تو نہیں کرنا چاہئے۔اس وقت ساری دنیا سے ہمیں آواز میں آرہی ہیں اور لوگ پکار پکار کر ہم سے اپنی ضروریات کا مطالبہ کر رہے ہیں اور یہ آوازیں اتنی کثرت اور اس قدر تو اتر کے ساتھ آرہی ہیں کہ ہم ان کا جواب دیتے دیتے تھک گئے ہیں۔آدمی ہمارے پاس نہیں کہ ہم مختلف ممالک کو مہیا کر سکیں اور مطالبات ہیں کہ وہ روز بروز بڑھتے چلے جاتے ہیں۔درجنوں آدمیوں کا افریقہ سے مطالبہ ہورہا ہے اور درجنوں آدمیوں کی دوسرے غیر ممالک میں ضرورت ہے۔ابھی سماٹرا اور جاوا کے راستے کھلنے والے ہیں اور وہاں ہمیں درجنوں آدمی بھیجوانے کی ضرورت ہوگی۔ان علاقوں سے جو خطوط آئے ہیں، ان میں دوستوں نے لکھا ہے کہ ہم نے اس جنگ میں اپنی آنکھوں سے وہ نظارے دیکھے ہیں، جن کا قیامت کے متعلق پہلے ہم خیال کیا کرتے تھے۔ان نظاروں کو دیکھنے کے بعد اب ہم سمجھتے ہیں کہ احمدیت کی اشاعت کے لئے ہر قسم کی قربانی کرنا، ہمارے لئے آسان ہے۔پہلے ہمیں پتہ نہں تھا کہ دنیا کن کن حالات میں سے گزرنے والی ہے؟ لیکن اب جبکہ ان حالات کو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے ہمیں اپنی زندگیاں بالکل حقیر معلوم ہوتی ہیں اور دنیا کا عیش اور آرام ہماری نگاہ میں بالکل بے حقیقت ہو گیا ہے۔کیونکہ ہم چار سال تک ایک دوزخ میں رہے ہیں اور ہم نے وہ نظارے دیکھے ہیں، جنہوں نے دنیا کی محبت ہم پر سرد کر دی ہے۔یہ وہ ممالک ہیں ، جن میں رہنے والوں کے دل بالکل ہے ہوئے ہیں اور وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ انہیں زیادہ زور کے ساتھ اسلام اور احمدیت کی تبلیغ کی جائے۔چنانچہ اب جوں جوں رستے کھلتے چلے جائیں گے ہمیں ان ممالک کی طرف زیادہ سے زیادہ لوگ بھجوانے پڑیں گے۔اسی طرح یورپ اور دوسرے ممالک کے لئے بھی ہمیں درجنوں آدمیوں کی ضرورت ہے۔726