تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 715 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 715

تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمود و 12 اپریل 1946ء اور قسم کے علوم کی ضرورت تھی۔اگر ہم قرآن کریم کو سمجھ سکتے اور دوسروں کو سمجھا سکتے تھے، اگر ہم احمدیت کو سمجھ سکتے اور دوسروں کو سمجھا سکتے تھے تو یہ بات ہمارے لئے کافی تھی۔کیونکہ احمدیت کی غرض اس سے پوری ہو جاتی تھی۔لیکن اگر ہم نے دنیا میں باہر نکلنا ہے، اگر ہم نے عرب علماء سے بھی ٹکر لینی ہے اور اگر مروجہ علوم کے بڑے بڑے ماہرین کا ہم نے مقابلہ کرنا ہے تو پھر لازمی طور پر ہمیں اپنے ظاہری علوم کا میعار بھی بڑھانا پڑے گا۔ہم جس قسم کے علماء تیار کرتے ہیں یا تیار کر سکتے تھے، وہ ایسے ہی تھے کہ جہاں علمی لحاظ سے وہ قرآن کریم اور احادیث کو علماء از ہر سے بہتر سمجھتے تھے ، وہاں اگر عربی زبان میں گفتگو کرنے کا سوال آجا تا تھا یا بعض خاص قسم کی اصطلاحات کا سوال آجا تا تھا تو دوسرے لوگ ہمارے علماء سے بہت بڑھے ہوئے تھے۔اور چونکہ عام طور پر لوگ ظاہر کی طرف دیکھتے ہیں، مغز کی طرف ان کی نظر نہیں ہوتی اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ظاہر ایک بیرونی چیز ہے، جس کی طرف ہر شخص کی نگاہ فورا اٹھنے لگتی ہے اور مغز اندر کی طرف ہوتا ہے، جسے ظاہر بین نگاہ نہیں دیکھتی ، اس لئے وہ لوگ جو ظاہری علوم کے دلدادہ تھے، ہمارے مبلغین سے پوری طرح متاثر نہیں ہوتے تھے۔اب چونکہ ہم نے ان علاقوں میں بھی اشاعت احمدیت کے لیے اپنی کوششوں کو تیز کرنا ہے، اس لئے ہمیں پہلے سے بہت زیادہ علماء کی ضرورت ہے اور ہمیں اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ ہم اپنی جماعت کے ایک طبقہ کو زیادہ اعلیٰ درجہ کے علمی معیار پر پہنچ سکیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ باطنی طور پر ان کو اعلی معیار پر پہنچانا، ہمارے قبضہ میں ہے لیکن ظاہری طور پر انہیں اعلیٰ معیار پر پہنچانا، اس وقت دوسروں کے قبضہ میں ہے۔اور ہم اس وقت تک اس رو کا مقابلہ نہیں کر سکتے، جب تک ہماری جماعت میں بھی ایسا طبقہ موجود نہ ہو، جو ظاہری علوم کے لحاظ سے اعلیٰ درجہ کے معیار کو حاصل کئے ہوئے ہو۔پس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس معیار پر جلد سے جلد پہنچیں اور ہماری جماعت میں اعلیٰ درجہ کے علوم کے ماہرین کی ایک کافی تعداد پیدا ہو جائے۔تاکہ ہماری جماعت میں نئے علماء کی ضرورت کا سوال بہت حد تک حل ہو جائے۔مجھے معلوم نہیں کہ اس وقت تک کے جماعت کے لوگوں نے میری تحریک پر کیا توجہ کی ہے؟ اصل طریق یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی تحریک کی جائے تو اس کے نتائج سے امام کو آگاہ رکھا جائے کیونکہ تمام کام امام کی آواز پر ہوا کرتا ہے۔میں نے اخبارات میں مدرسہ احمدیہ کے ہیڈ ماسٹر اور جامعہ احمدیہ کے پرنسپل کی طرف سے اس قسم کے اعلانات تو دیکھے ہیں کہ دوستوں کو اپنے لڑکے یہاں تعلیم کے لئے بھیجوانے چاہئیں۔مگر مجھے کسی نے بتایا نہیں کہ اس بارہ میں لڑکوں کی طرف سے کچھ درخواستیں آئی 44 715