تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 714 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 714

خطبہ جمعہ فرمودہ 12 اپریل 1946ء تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم طرف توجہ دلائی تھی ، جس کے نتیجہ میں جماعت میں بیداری پیدا ہوئی اور 32-30 کے قریب لڑکے مدرسہ احمدیہ کی پہلی جماعت میں شامل ہوئے۔گو دوران سال میں یہ تعداد کچھ کم ہو گئی۔کیونکہ بعض لڑکے ایسے تھے، جنہیں ماں باپ نے واپس بلا لیا اور بعض لڑکے ایسے تھے ، جو خود ہی بھاگ گئے۔اس طرح 10-8 کے قریب تعداد میں کمی واقع ہو گئی۔مگر پھر بھی جو تعداد باقی رہی، وہ پہلے سالوں کے مقابلہ میں بہت زیادہ تھی۔پہلے ہر سال صرف تین، چارٹر کے مدرسے میں داخل ہوتے تھے مگر اس تحریک کے نتیجہ میں قریباً تیں بنتیں ہو گئے۔ان میں سے اگر 26-25 لڑکے بھی پاس ہو جائیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ہمیں آج سے چند سال کے بعد 26-25- مبلغ ملنے شروع ہو جائیں گے۔یہ حالت پہلی حالت سے یقینا بہتر ہے۔کیونکہ پہلے یہ تعداد دو، تین پر آکر رک چکی تھی مگر اب پھر یہ تعداد بڑھتے بڑھتے 26-25 تک پہنچ گئی ہے۔لیکن مصیبت یہ ہے کہ گو باقی تمام پنجاب کی نسبت ہمارے علماء بہت زیادہ ہیں، پھر بھی ہماری ضروریات کے لحاظ سے یہ تعداد بہت کم ہے۔سارے پنجاب میں جس قدر مولوی فاضل پاس ہوتے ہیں، ان میں سے چالیس فی صدی احمدی ہوتے ہیں۔مگر یہ نسبت بھی ایسی ہے، جس میں ہم پہلے مقام سے اب گر گے ہیں۔پہلے یہ حالت ہوا کرتی تھی کہ احمدی اگر 80 فی صدی ہوتے تھے تو غیر احمدی 20 فی صدی ہوتے تھے۔آہستہ آہستہ ہماری تعداد گرتی گئی اور ان کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔گویا دونوں طرف سے فرق پیدا ہونا شروع ہو گیا۔ہماری طرف سے مولوی فاضل کا امتحان دینے والے کم ہوتے چلے گئے اور ان کی طرف سے مولوی فاضل کا امتحان دینے والے بڑھتے چلے گئے۔یہاں تک کہ ہم 80 فی صدی سے گر کر 22 فی صدی پر آگئے۔اب میری طرف سے جو تحریک کی جارہی ہے کہ دوستوں کو اپنے بچے مدرسہ احمدیہ میں داخل کرانے چاہیں ، اگر یہ تحریک کامیاب طور پر جاری رہے تو امید کی جاسکتی ہے کہ چند سالوں میں ہی ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے 50,60 بلکہ 70 فیصد تک پہنچ سکتے ہیں۔بہر حال گو تعداد ہماری زیادہ ہے مگر کام کرنے والوں کے لحاظ سے یہ تعداد زیادہ نہیں۔ہماری جماعت میں سے 50,60 طلباء مولوی فاضل کے امتحان میں ہر سال ضرور کامیاب ہونے چاہیں۔بلکہ 50,60 مولوی فاضل بھی بہت کم ہیں، کیونکہ ہماری ضروریات اس سے زیادہ ہیں۔پھر ہمارے سامنے ترقی کا جو وسیع پروگرام ہے، اس کے لحاظ سے قطعی طور پر علم کا وہ معیار کافی نہیں سمجھا جاسکتا، جو اس وقت ہماری جماعت میں پایا جاتا ہے۔جب تک صرف احمدیت کو سمجھنے کا سوال تھا، جب تک احمدیت کو سمجھ کر لوگوں کے کانوں تک اس کی آواز کو پہنچانے کو سوال تھا، اس وقت تک ہمیں 714