تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 705 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 705

خطبه جمعه فرمود 22 مارچ 1946ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم 25 فیصدی ترقی ہمارے دل کو تسلی نہیں دے سکتی۔ہاں اس ترقی پر اظہار خوشنودی بھی ضروری ہے اور اللہ تعالیٰ کا شکر بھی کہ اس نے ہمارا قدم درستی کی طرف اٹھایا۔پنجاب کی زمین سندھ کی زمین کے مقابلہ میں بے انتہا آمدنی پیدا کرتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ پنجاب کے لوگ سندھی لوگوں کی نسبت زیادہ محنتی ہیں۔ایک دوست جو کہ زراعت کے محکمہ میں افسر ہیں، انہوں نے مجھے بتایا کہ ان کے لائل پور میں دو مر بعے ہیں اور انہوں نے دونوں 6400 روپے سالانہ ٹھیکے پر دیئے ہوئے ہیں۔یعنی انہیں فی مربعہ 3200 روپیہ ملتا ہے۔اگر ہمیں بھی 3200 روپیہ فی مربعہ آمد ہوتو تحریک جدید کے 400 مربعوں سے ہمیں بارہ ، تیرہ لاکھ روپیہ سالانہ کی آمد ہو جائے۔لیکن ہمیں ابھی تک ایک لاکھ روپیہ کی آمدان زمینوں سے ہوتی ہے۔اور یہ ایام قیمتوں کی زیادتی کے ہیں، اگر قیمتیں گر جائیں اور پیدوار کی یہی حالت رہے تو پھر تو پچاس، ساٹھ ہزار کی آمد کا اندازہ رہ جاتا ہے۔لیکن تحریک کے واقفین اور دوسرے کارکن عقل اور قربانی اور محنت سے کام لیں تو کوئی وجہ نہیں کہ پنجاب کے برابر آمد یہاں سے پیدا نہ کر سکیں۔بہر حال اس سال میں کارکنوں کے کام پر خوش ہوں اور ان کے اچھے کام کی تعریف کرتا ہوں۔پہلے تمام سالوں سے اس سال فصلیں اچھی ہیں اور آئندہ فصلوں کی تیاری بھی اچھی ہے۔اب ایک بات کی نگرانی باقی ہے کہ جس طرح انہوں نے پہلے محنت اور کوشش سے کام کیا ہے، اسی طرح اب فصلوں کے کاٹنے میں بھی حفاظت سے کام لیں اور پوری پوری نگرانی کریں کہ فصل کا کوئی حصہ بھی ضائع نہ ہو۔اگر کارکنوں نے پوری طرح نگرانی کی تو مجھے امید ہے محمد آباد کی فصل تمام اسٹیوں سے بڑھ جائے گی اور اگر ان اسٹیوں کی فصل بھی اس کے برابر ہوگئی یا اس سے بڑھ گئی تو میں سمجھوں گا کہ محد آباد کے کارکنوں نے فصل کی پوری طرح حفاظت نہیں کی۔اگر آج ہم زراعت کی طرف متوجہ ہیں تو محض اس لیے کہ ان جائیدادوں کے ذریعہ قرآن کریم اور حدیث اور اسلام کی تائید کے لیے کتابیں پھیل سکیں۔اگر ہم تجارت کو فروغ دینا چاہتے ہیں تو محض اس لئے کہ ہماری اتنی آمد ہو جائے کہ اس سے ہم اسلام اور احمدیت کی تمام دنیا میں اشاعت کر سکیں۔پس ہمارا زراعت اور تجارت کی طرف متوجہ ہونا، دنیوی معاملہ نہیں بلکہ دینی ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ ہم ہندوستان میں دوسرے مسلمانوں کے مقابلہ میں دوسو کے مقابلہ میں ایک ہیں۔اور دنیا کی آبادی دوارب ہے، اس لئے ہم دنیا کے مقابلے میں چار ہزار کے مقابلہ میں ایک ہوئے۔اور چونکہ ہماری اس تعداد میں سب عورتیں اور بچے وغیرہ شامل ہیں اور اگر ہر گھر کے پانچ فرد سمجھے جائیں اور ان میں سے صرف ایک مرد بالغ عاقل سمجھا جائے تو ہمیں ہزار کے مقابلہ میں ہم ایک ہوئے۔اور چونکہ بعض ایسے بھی ہوتے ہیں، جن 705