تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 704 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 704

خطبه جمعه فرمودہ 22 مارچ 1946ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم کے لیے روانہ کریں گے تو ہمیں ان کو واپس بلانے کے لیے بھی ہیں ہزار مبلغ کی ضرورت ہے۔کیونکہ ایک مبلغ کو متواتر کئی سال تک اس کے رشتہ داروں اور اس کے بیوی بچوں سے جدا رکھنا بہت تکلیف دہ امر ہے۔اس لئے ہمیں یہ بھی انتظام کرنا ہوگا کہ پہلے مبلغ تین سال کے بعد واپس آجائیں اور ان کی جگہ اور چلے جائیں۔پس بیس ہزار مبلغین کا مختلف علاقوں میں پھیلانا ، ایک ایسا کام ہے، جو صرف چندے کی رقوم سے نہیں ہو سکتا۔اگر ہماری جماعت بہت زیادہ قربانی کرے اور چندہ کے فراہم کرنے میں کوئی کسر اٹھانہ رکھے تو پھر بھی وہ رقم ہیں تمہیں لاکھ سے زیادہ نہ ہوگی۔لیکن جیسا کہ میں بتا چکا ہوں کروڑوں کروڑ روپیہ کی ضرورت ہے۔اگر ہماری جماعت تجارت کی طرف متوجہ ہو جائے اور تجارت کے ایک حصہ پر ہماری جماعت قابض ہو جائے تو اس کی مالی حالت بھی اچھی ہو جائے اور غیر ممالک میں تبلیغ کا کام، جو اسے مشکل نظر آتا ہے، وہ بھی بہت آسان ہو جائے۔میں دیکھتا ہوں کہ دوسری اقوام کے لوگ تجارت سے کمایا ہوار و پیا اپنی عیاشیوں، کچنوں کے ناچ گانے میں خرچ کر رہے ہیں۔ہزاروں بلکہ لاکھوں رو پیدان کی جیبوں سے ان کاموں کے لیے نکل آتا ہے۔لیکن خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت کے لئے ان کی جیبیں خالی ہیں اور ان سے ایک پیسہ بھی نہیں نکل سکتا۔پس ضروری ہے کہ کچھ روپیہ تجارت سے بھی آئے ، جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ ہو۔آخر کیا وجہ ہے کہ اس میدان پر صرف شیطان کا قبضہ ہو ؟ ہم نے تجارت اور صنعت کو فروغ دینے کے لیے قادیان میں بعض کارخانے بھی جاری کئے ہیں اور ریسرچ انسٹی ٹیوٹ بھی کھولی ہے۔تاجروں کے بعد زمینداروں کا بھی یہی حال ہے۔ان کے مال کا اکثر حصہ بھی عیاشیوں میں خرچ ہوتا ہے۔اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ کچھ بوجھ خدا تعالیٰ کے دین کو پھیلانے کے لئے زمینداروں پر بھی پڑے، میں نے تحریک جدید کے لیے یہاں زمینیں خریدی تھیں۔ان کی قیمت اس وقت تک قریباً پندرہ لاکھ روپیہ ادا کی جا چکی ہے۔اگر ہم یہی روپیہ مختلف تجارتوں پر لگاتے اور اگر ہمیں پندرہ فی صدی نفع ہوتا تو بھی ہمیں سوا دو لاکھ روپیہ سالانہ آمدنی ہوتی۔لیکن ہمیں ابھی تک صرف ایک لاکھ کی سالانہ آمد ہورہی ہے۔اس کمی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کارکن ستی اور غفلت سے کام کرتے ہیں اور اپنے فرائض پوری تن دہی سے سرانجام نہیں دیتے۔اس دفعہ محمد آباد میں یہ پہلا سال ہے کہ مجھے محمد آباد کے کارکنوں کے کام سے خوشی ہوئی ہے اور مجھے ان کے کام میں ترقی نظر آئی ہے۔اس سال محمد آباد کے کارکنوں نے 25 فیصدی اپنے کام میں ترقی کی ہے۔لیکن جہاں ہم ان لوگوں سے سو فیصدی ترقی کی امید رکھتے ہیں، وہاں 704