تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 56

خطبہ جمعہ فرمودہ 29 نومبر 1940ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم چاہئے کہ وہ اضافہ کے ساتھ اپنا چندہ لکھوائے۔یہ ضروری نہیں کہ جس نے گزشتہ سال پانچ روپیہ کا وعدہ کیا تھا وہ اب چھ روپے کا وعدہ لکھوائے بلکہ وہ ایک پیسہ اور ایک آنہ دے کر بھی سابقون میں شامل ہو سکتا ہے اور جبکہ میں نے سابقون میں شامل ہونے کا راستہ ہر ایک کے لئے کھول دیا ہے اور میں نے اجازت دی ہوئی ہے کہ قلیل سے قلیل ایزادی سے بھی انسان سابقون کا ثواب حاصل کر سکتا ہے تو اس اجازت کے بعد کوئی ایسا شخص ہی سابقون کے ثواب سے محروم رہ سکتا ہے جسے یا تو اس بات کا علم نہ ہو اور یا اس کے دل میں سابقون کے زمرہ میں شامل ہونے کی کوئی قدر نہ ہو۔پس ہر مومن کو چاہئے کہ وہ اپنے پچھلے سال کے چندہ پر حسب توفیق دھیلہ، پیسہ، دو پیسے، آنہ، دو آنے یا اس سے زیادہ رقم بڑھادے تا کہ وہ سابقون میں شامل ہو جائے اور اس کی ہر منزل پہلی منزل سے زیادہ بہتر ہو۔پھر ایک اور ذریعہ بھی سابقون میں شامل ہونے کا ہے اور وہ یہ کہ اسلامی تعلیم سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی زندگی دو حصوں میں منقسم ہے۔ایک حصہ تو انفرادی زندگی کہلاتا ہے اور دوسرا حصہ جماعتی زندگی کہلاتا ہے۔پس میرے نزدیک نہ صرف افراد کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ ان کا چندہ پہلے سال سے زیادہ ہو بلکہ جماعتوں کو بھی یہ احساس ہونا چاہئے کہ ان کے وعدوں کی لسٹیں افراد کے لحاظ سے بھی اور وعدوں کے لحاظ سے بھی پہلے سالوں سے بڑھ کر ہوں۔در حقیت قومی عزت بھی عزت ہی ہوتی ہے بلکہ اگر ہم غور کریں تو وہ بعض دفعہ ذاتی عزت سے بڑھ کر ہوتی ہے مثلاً زید قادیان کا باشندہ اگر اپنے وعدہ کی تمام شرائط کو پورا کر دیتا اور سابقون کے زمرہ میں آجاتا ہے لیکن قادیان کی جماعت پھسڈی رہ جاتی ہے تو زید کو بھی اس داغ سے کچھ حصہ ملے گا۔اسی طرح فرض کر و بکر لاہور میں چندہ دینے میں خوب چست ہے اور وہ ہمیشہ اضافہ کے ساتھ وعدہ کرتا اور وقت کے اندر اسے پورا کرتا ہے لیکن لاہور کی جماعت چندہ میں پیچھے رہ جاتی ہے تولا ہور کی جماعت کو جو داغ لگے گا وہ اس کو بھی لگے گا با وجود اس بات کے کہ ذاتی طور پر وہ چندہ میں سب سے آگے ہوگا۔تو جماعتی لحاظ سے بھی سابقون میں شامل ہونے کی کوشش کرنی چاہئے اس کے لئے ضروری ہے کہ وعدہ کرنے والے افراد کی تعداد پہلے سال سے زیادہ ہو اسی طرح ان کی موعودہ رقوم بھی گزشتہ سال سے اضافہ کے ساتھ ہوں۔چھوٹی چھوٹی جماعتوں میں بے شک یہ مشکل پیش آسکتی ہے کہ افراد کے لحاظ سے ان میں کوئی خاص زیادتی نہیں ہو سکتی، کسی جگہ اگر ایک سال پانچ سات احمدی ہیں تو دوسرے سال بھی پانچ سات احمدی ہی ہوں گے مگر بڑی بڑی جماعتوں میں مقابلہ کا راستہ کھلا ہے۔اس سے ان کی عزت بہت بڑھ سکتی ہے اور اس مقابلہ سے یہ بھی معلوم ہو سکتا ہے کہ کون سی جماعتیں پیچھے رہی ہیں۔56