تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 686
اقتباس از خطبہ جمعہ فرمود : 15 فروری 1946ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم ہوں۔ابھی تو مزید تربیت کی ضرورت ہے تا کہ جماعت صحابہ کے مقام تک پہنچے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایسے آدمی ہم کو ملے ہیں ، جو صحابہ کے مقام تک پہنچے۔لیکن ہماری جماعت ابھی جماعتی لحاظ سے صحابہ کے مقام تک نہیں پہنچی۔اور ابھی جماعت کو اس مقام تک پہنچنے کے لئے بہت بڑی جدو جہد اور قربانی کی ضرورت ہے۔مگر صحابہ کی قربانیاں بھی اسلام کو تین سو سال تک ہی زندہ رکھ سکیں۔پھر فیج اعوج آ گیا۔اگر ہم صحابہ " کہ مقام پر بھی پہنچ جائیں ، تب بھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم تین سو سال تک زندہ رہ سکیں گے۔حضرت مسیح ناصری کی تعلیم میں تو ڈیڑھ سو سال بعد ہی شرک پیدا ہونا شروع ہو گیا تھا۔پس ہمارے لیے ایک تھوڑ اسا وقت مقدر ہے۔اس تھوڑے سے وقت میں کیا 33 مبلغ، دولاکھ مبلغوں کا کام کر سکتے ہیں؟ یقینا جب تک غیر معمولی کوشش ہماری طرف سے نہ ہو، جب تک غیر معمولی فضل اللہ کی طرف سے نازل نہ ہو، اس وقت تک یہ کام کبھی نہیں ہو سکتا۔وو۔اس غرض کے لئے جو آدمی ہم نے تیار کر کے باہر بھیجے ہیں ، جیسا کہ میں نے بتایا ہے وہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔بلکہ آٹے میں جتنا نمک ہوتا ہے، اس سے یقینا بہت کم ہیں۔اور دراصل اسے تبلیغی جدو جہد کہنا بھی غلط ہے۔پھر نہ معلوم جب انہوں نے عملی زندگی میں قدم رکھا تو کس طرح کام کریں گے؟ ان کے دماغ کتنے روشن ہوں گے؟ ان کے اندر عرفان کس حد تک پیدا ہوگا ؟ ان کا ایمان انہیں کتنی قربانی پر آمادہ کرے گا؟ اور پھر ان کی آواز میں کتنا اثر ہوگا کہ لوگ ان کی طرف متوجہ ہوں، ان کے قلوب ان کی طرف کھینچ جائیں اور وہ ایمان کی طرف قدم اٹھانے کے لیے تیار ہو جائیں؟ یہ سارا کام ایسا ہے، جو ہمارے قبضہ میں نہیں۔بلکہ اس میں سے کچھ حصہ ہمارے مبلغین کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور کچھ حصہ خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ہماری مثال تو ایسی ہی ہے، جیسے کسی نے کاغذ کی ناؤ بنائی اور دریا میں چھوڑ دی۔اب یہ کاغذ کس حد تک پانی کے حملہ سے بچارہتا ہے اور کس طرح خدا تعالٰی ہلکی ہلکی ہواؤں کو چلاتا اور کاغذ کی ناؤ کو پارا تار دیتا ہے؟ یہ سارا کام اسی کا ہے، ہمارے بس کی بات نہیں۔یہ محض اس کے فضل سے ہی ہو سکتا ہے۔ہماری کوششوں سے نہیں۔پس ہمیں خدا تعالیٰ کے حضور دعائیں اور التجائیں کرنی چاہئیں کہ وہ اس ناؤ کو سلامتی کے ساتھ دوسرے کنارے پر پہنچا دے۔جہاں تک انسانی تدابیر اور کوششوں کا سوال ہے، کاغذ کی ناؤ کا دوسرے کنارے پر جانا تو الگ رہا، وہ اپنے کنارے سے چلے بغیر ہی ڈوب جایا کرتی ہے۔ایک بہت بڑا کام ہمارے سپر د ہے اور ہمیں کبھی بھی اس سے غافل نہیں ہونا چاہئے۔دنیا بھر کے دلوں کو بدل ڈالنا معمولی بات نہیں۔در حقیقت زمین و آسمان کو پیدا کرنا آسان ہے۔مگر دنیا کے قلوب کو بدل ڈالنا، آسان بات نہیں“۔686