تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 685
تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 15 فروری 1946ء کہ وہ ویدوں کے مطابق باطنی طور پر تو الگ رہا ظاہر طور پر ہی عمل کر رہا ہے۔عیسائی مذہب انیس سو سال سے موجود ہے۔لیکن موجود ہونا اور چیز ہے اور زندہ ہونا اور چیز ہے۔حضرت مسیح تو دنیا کوللکار کر چیلنج دیتے ہیں کہ اگر تم میں ایک رائی کے برابر بھی ایمان ہوگا تو تم ہواؤں کو کہو گے تم جاؤ تو وہ تھم جائیں گی۔تم دریاؤں کو کہو گے کہ ٹھہر جاؤ تو وہ ٹھہر جائیں گے۔تم پہاڑوں کو کہو گے چلو تو وہ چلنے لگ جائیں گے۔ہم مانتے ہیں کہ یہ استعارے کا کلام ہے۔پہاڑ سے مراد ہمالیہ نہیں، دریاؤں سے مراد گنگا جمنا یا انڈدس نہیں اور ہواؤں سے مراد وہ ہوا ئیں نہیں، جو درختوں کو ہلاتی ہیں بلکہ یہ سب استعارے کا کلام ہے۔مگر استعارہ کی رو سے جو معنی ہواؤں کے ہیں، جو معنی دریاؤں کے ہیں، جو معنی پہاڑوں کے ہیں، وہ معنی بھی تو آج پورے نہیں ہورہے۔وہ کون سا تغیر ہے، جو عیسائیت کے ذریعہ دنیا میں ہورہا ہے؟ عیسائیت نے تو یہ کہہ کر کہ شریعت ایک لعنت ہے، ساری شریعت کو بے کار قرار دے دیا ہے۔صرف دس احکام بتلائے ہیں۔مگر کیا ان دس احکام پر بھی عیسائی عمل کر رہے ہیں؟ ہم مان لیتے ہیں کہ ایک حصہ کمزور ہوتا ہے، جو شرعی احکام پر عمل نہیں کرتا۔لیکن آخر کچھ حصہ تو اس پر عمل کرتا ہے۔مگر عیسائیوں میں تو وہ حصہ بھی نہیں ملتا۔اول تو وہ ہیں ہی دس احکام اور پھر ان پر بھی وہ عمل نہیں کر سکتے۔اس کے مقابل پر ایک کمزور سے کمزور مسلمان بھی دن بھر میں پچاس احکام پر عمل کر لیتا ہے۔حالانکہ بڑے سے بڑا عیسائی حضرت مسیح کے دس احکام پر بھی عمل نہیں کرتا۔پس عیسائیت ہے تو سہی لیکن عیسائیت زندہ نہیں۔اس کی لاش پڑی ہوئی ہے۔اسی طرح حضرت موسیٰ ، حضرت زرتشت اور دوسرے انبیاء کی تعلیم پر عمل بالکل مفقود ہے۔پس ہزار ہا سال تک کوئی قوم اور کوئی مذہب زندہ نہیں رہ سکتا۔چھلکا رہ جاتا ہے، فضلہ رہ جاتا ہے مگر حقیقت باقی نہیں رہتی۔میں جب بھی دنیا کی تاریخ پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے کوئی مذہب بھی تین، چار سو سال سے زیادہ زندگی والا نظر نہیں آتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی فرمایا ہے کہ خیر القرون قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ثم فيج الاعوج کہ اسلام کی سب سے اچھی صدی پہلی ہوگی ، اس کے بعد دوسری ہوگی اور پھر تیسری صدی ہوگی۔اس کے بعد بد اخلاق جماعت ہوگی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر شان والا اور کون آدمی ہو گا ؟ مگر آپ کی تعلیم بھی تین، چار سو سال تک ہی چلی آگے نہیں۔پس جو قوم کامیاب بنا چاہتی ہو، اس کو اس خیال میں نہیں پڑنا چاہئے کہ اس کے لیے ہزار ہا سال کام کرنے کے لیے پڑے ہیں۔کیونکہ آج تک ہزار سال تک ایک قوم بھی زندہ نہیں رہ سکی۔اور ہمارے اندر کوئی ایسی خصوصیت نظر نہیں آتی کہ ہم ہزار ہا سال تک مذہب کو زندہ رکھنے کی قابلیت رکھتے 685