تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 670
خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جنوری 1946ء تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم پس اساتذہ اور والدین کا فرض ہے کہ وہ بچوں کی پورے طور پر نگرانی کریں اور انہیں محنت کا عادی بنا ئیں نماز، روزہ اور دیگر اسلامی احکام کا ان کو پابند کریں ، دین کے کاموں کے متعلق ان کے اندر دلچسپی پیدا کریں۔اساتذہ طالب علموں کے ماں باپ کو انگیخت کریں کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم کا پورا پورا خیال رکھیں۔اور حقیقت یہ ہے کہ مائیں ہی اپنے بچوں کے آئندہ اچھے یا برے مستقبل کی ذمہ دار ہوتی ہیں کیونکہ بچہ اکثر اخلاق چھوٹی عمر میں سیکھتا ہے۔اگر مائیں کڑی نگرانی کریں اور ان کے اندر کوئی بری عادت پیدا نہ ہونے دیں تو وہ بڑے ہو کر بہت حد تک بری عادات سے محفوظ رہتے ہیں۔لیکن اگر بچپن میں ہی بچے کو چوری کی یا جھوٹ بولنے کی یا کوئی اور بری عادت پڑ جائے اور والدین پیار کی وجہ سے اسے اس عادت سے باز نہ رکھیں تو وہ بڑا ہو کر اس عادت کو نہیں چھوڑ سکتا۔ہمارے ملک میں مشہور ہے، کہتے ہیں کہ کوئی ماں تھی۔اس کا لڑ کا چور ہو گیا۔پھر چور سے ڈا کو بنا۔ایک دفعہ ڈا کہ میں اس سے قتل ہو گیا اور اس قتل کی وجہ سے اسے پھانسی کی سزا ملی۔جب اسے پھانسی دینے لگے تو اس نے کہا کہ مجھے اجازت دی جائے کہ میں اپنی ماں سے ایک بات کرلوں۔اس پر ماں کو بلایا گیا۔جب وہ آئی تو اس نے کہا کہ میں اس سے کان میں بات کرنا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا اسی طرح کر لو۔اس نے اپنا منہ ماں کے قریب لے جا کر زور سے اس کے کلے کو کاٹا۔ماں چیچنیں مارتی ہوئی پیچھے کو بھاگی۔لوگوں نے اس کو لعنت ملامت کی کہ تم بڑے بد کردار آدمی ہو۔تمہیں پھانسی مل رہی ہے اور پھر بھی تم نے اس سے عبرت حاصل نہیں کی اور تمہارا دل نرم نہیں ہوا۔اب تم نے ماں کے کلے پر کاٹ کھایا ہے۔اس نے کہا، آپ لوگوں کو علم نہیں کہ مجھ کو یہ پھانسی میری ماں کی وجہ سے مل رہی ہے۔میراکلہ کا نما پھانسی کے مقابلہ میں کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتا۔اصل بات یہ ہے کہ میری ماں کو میری جگہ پھانسی ملنی چاہیے تھی۔پھر اس نے بتایا کہ میں چھوٹا بچہ تھا لیکن آوارہ پھرا کرتا تھا۔اگر کوئی شخص میری ماں سے میرے متعلق کوئی شکایت کرتا تو میری ماں اس سے لڑتی تھی کہ میرا بچہ تو ایسا نہیں۔یہ لوگ دشمنی سے ایسا کہتے ہیں۔پتہ نہیں کیوں ان کو میرے بچے سے دشمنی ہوگئی ہے؟ میرا بچہ تو نالائق نہیں۔میں مدرسے سے پنسل، کاغذ قلم دوات وغیرہ چرا کر لاتا تو میری ماں مجھے کہتی ، یہاں نہ رکھو کوئی دیکھ لے گا، وہاں پر رکھو۔اگر کوئی شخص میری چوری کے متعلق شکایت کرتا تو میری ماں اسے گالیاں دیتی کہ ناحق میرے بچے کو بدنام کر رکھا ہے۔ان باتوں سے میں چور بنا اور پھر چور سے ڈاکو بنا۔پھر ڈا کہ میں مجھ سے قتل ہوا، جس کی وجہ سے مجھے پھانی پر لٹکایا جار ہا ہے۔اس قتل کی ساری ذمہ داری میری ماں پر ہے۔اس لئے اس کا کلہ کا نا جانے کی بجائے در حقیقت پھانسی کی سزا اسے ملنی چاہیے تھی نہ کہ مجھے۔اس 670