تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 669 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 669

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جنوری 1946ء ہمارا مقابلہ تو ان قوموں سے ہے، جن کے نوجوانوں نے چالیس، چالیس سال تک شادی نہیں کی اور اپنی عمریں لیبارٹریوں میں گزار دیں اور کام کرتے کرتے میز پر ہی مرگئے اور جاتے ہوئے بعض نہایت مفید ایجاد میں اپنی قوم کو دے گئے۔مقابلہ تو ایسے لوگوں سے ہے کہ جن کے پاس گولہ بارود اور دوسرے لڑائی کے ہتھیار نہ رہے تو انہوں نے امریکہ سے ردی شدہ بندوقیں منگوائیں اور انہیں سے اپنے دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔انگلستان والوں نے کہا کہ بے شک جرمن آجائے ، ہم اس سے سمندر میں لڑیں گے۔اگر سمندر میں لڑنے کے قابل نہ رہے تو پھر اس سے سمندر کے کناروں پر لڑیں گے۔اور اگر سمندر کے کناروں پر لڑنے کے قابل نہ رہے تو ہم اس سے شہروں کی گلیوں میں لڑیں گے۔اور اگر گلیوں میں لڑنے کے قابل نہ رہے تو ہم گھروں کے دروازوں تک مقابلہ کریں گے۔اور اگر پھر بھی مقابلہ نہ کر سکے تو کشتیوں میں بیٹھ کر امریکہ چلے جائیں گے۔مگر اس سے جنگ کرنا ترک نہیں کریں گے۔ہمارا مقابلہ تو ایسے لوگوں سے ہے اور ہمیں ان کا مقابلہ کرنے کے لئے ایسے نو جوان دیئے جاتے ہیں، جو کہتے تو یہ ہیں کہ ہم بھو کے رہیں گے، کہتے تو یہ ہیں کہ ہم جنگلوں اور پہاڑوں اور ویرانوں میں جائیں گے، کہتے تو یہ ہیں کہ ہم وطن سے بے وطن ہوں گے، کہتے تو یہ ہیں کہ ہم اپنی ہر ایک عزیز چیز کو قربان کرنے کے لئے تیار رہیں گے۔لیکن جب ان کو کام پر لگایا جاتا ہے تو کوئی کہہ دیتا ہے کہ میرا چالیس روپے میں گزارہ نہیں ہو سکتا ، اس لئے بھاگ آیا ہوں۔کوئی کہہ دیتا ہے کہ میرا وہاں دل نہیں لگتا تھا، اس لئے میں کام چھوڑنے پر مجبور ہوا اور ساتھ ہی لکھ دیتا ہے کہ سلسلہ میرے اس فعل پر برا نہ منائے اور میرا وقف قائم رکھا جائے۔جاتا تو وہ اپنے ماں باپ یا بیوی کی معیت میں وقت گزارنے کے لئے ہے کیونکہ وہ اداس ہو گیا تھا۔لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی کہتا جاتا ہے کہ میرا وقف قائم رکھا جائے۔ایسے نوجوان ہیں، جو ہمیں دیئے جاتے ہیں۔ان سے کسی نے کام کیا لینا ہے؟ ہمیں تو ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے کہ جہاں ان کو کھڑا کیا جائے ، وہ وہاں سے ایک قدم بھی نہ ہیں۔سوائے اس کے کہ ان کی لاش ایک فٹ ہماری طرف گرے تو گرے۔لیکن زندہ انسان کا قدم ایک فٹ آگے پڑے، پیچھے نہ آئے۔ہمیں تو ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے اور یہی لوگ ہیں ، جو قوموں کی بنیاد کا کام دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے متعلق فرماتا ہے کہ ان میں سے ہر آدمی کفن بر دوش ہے۔فَمِنْهُم مَّن قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ يُنْتَظِرُ کہ ان میں سے کچھ لوگوں نے اسلام کی راہ میں اپنی جانیں دے دی ہیں اور کچھ انتظار کر رہے ہیں۔یہ وقف ہے، جو دنیا میں تغیر پیدا کیا کرتا ہے۔669