تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 666
خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جنوری 1946ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد دوم ہے۔صنعت و حرفت کا محکمہ ہے، اس کے ماتحت محکمہ والے نئی نئی سکیمیں بنا کر لاتے ہیں۔میں کہتا ہوں، اس کے لئے آدمی لاؤ مگر چونکہ آدمی نہیں ہوتے ، اس لئے سکیم رہ جاتی ہے۔اگر پچاس سکیموں کے چلانے کا اس وقت موقع ہوتا ہے تو آدمیوں کی قلت کی وجہ سے بمشکل ایک یا دو سکیمیں چلتی ہیں۔اور اس طرح ایک دن کا کام نہیں، چھپیس دن میں ہوتا ہے۔پس ہمیں آدمیوں کی ضرورت ہے اور آدمیوں کی ضرورت کا ایک حصہ ماں باپ پورا کر سکتے ہیں اور دوسرا حصہ سکول اور کالج کے لوگ پورا کر سکتے ہیں۔جامعہ احمدیہ، مدرسہ احمدیہ اور دوسرے باہر کے احمد یہ مدارس اس حصہ کو پورا کر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ صحیح رنگ میں کوشش کریں اور اپنی ذمہ داری کو سمجھیں۔ہمیں سوچنا چاہیے کہ اگر آدمی نہ ملے تو لڑائی کس طرح لڑی جاسکتی ہے؟ آخر یہ تو بات نہیں کہ پھونکیں مارنے سے کام ہو جائے گا۔ہماری جماعت کی موجودہ حالت میں آدمیوں کے نہ ملنے کی وجہ سے ویسی ہی مثال ہے، جیسے بخارا میں مولویوں نے کہا۔جب روس نے بخارا پر حملہ کیا تو مولویوں نے یہ فتویٰ دے دیا کہ آگ سے عذاب دینا منع ہے اور چونکہ تو پوں میں آگ استعمال ہوتی ہے اور بندوقوں میں بھی۔اس لئے جو شخص توپ اور بندوق استعمال کرے گا، وہ کافر ہو جائے گا۔اس وجہ سے بخارا والوں نے ان کے مقابل پر تو ہیں اور بندوقیں نہ بنا ئیں۔جب روس نے حملہ کر دیا تو چونکہ بخارا والے تو پہیں اور بندوقیں نہیں چلا سکتے تھے ، اس لئے وہ تلواریں اور نیزے لے کر میدان جنگ میں ان کے مقابل پر آئے۔ان کے میدان جنگ میں آنے پر تو بچوں نے گولے برسانے شروع کر دیئے۔بھلا توپ کے آگے تلوار کا کیا کام؟ دو تین گولوں سے ہی کئی آدمی مارے گئے اور باقی سب ڈر کر بھاگ آئے۔اور انہوں نے علماء کو کہا کہ وہ تو قابو نہیں آتے ، بہت سخت ہیں۔علماء نے کہا، اچھا ہم وہ آلے لے کر جن سے بکریوں کے لئے پتے چھاڑے جاتے ہیں، جائیں گے اور کافروں کے پاؤں میں ڈال ڈال کر ان کو ھینچیں گے۔چنانچہ وہ گئے اور انہوں نے قرآن کریم کی آیتیں پڑھ پڑھ کر ان کی طرف پھونکیں مارنی شروع کر دیں۔ابھی دو، چار گولے ہی پڑے تھے کہ مولوی بھاگ نکلے اور میدان صاف ہو گیا۔واپس آکر کہنے لگے کہ بہت خبیث شیطان معلوم ہوتے ہیں، جن پر قرآن بھی اثر نہیں کرتا۔ہماری جماعت کو ہر ایک عقلمند تسلیم کرتا ہے اور سب کو یہ اعتراف ہے کہ عقلمندوں کی جماعت ہے۔پھر بھی عقل و شعور رکھتے ہوئے معلوم نہیں کیوں جماعت ان مولویوں کی طرح اپنی جہالت کا ثبوت مہیا کر رہی ہے؟ آخر جماعت کو عقلمندی سے کام لینا چاہیے۔جہاں روپے کی ضرورت ہے، وہاں ہماری جماعت کو روپیہ دینا پڑے گا۔جہاں آدمیوں کی رورت ہے، وہاں ہماری جماعت کو آدمی پیدا کرنے ہوں گے۔666