تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 665 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 665

خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جنوری 1946ء تحریک جدید- ایک الجی تحر یک۔۔۔جلد دوم گئے۔ہر ایک بات کا انتظام خلیفہ یا انجمن کرے، یہ نہیں ہو سکتا۔آخر یہ اساتذہ کس مرض کی دوا ہیں؟ ان کی ایسی ہی مثال ہے۔جیسے کہتے ہیں کہ دو پوستی ایک بیری کے درخت کے نیچے لیٹے ہوئے تھے۔ان کے پاس سے ایک سپاہی گزرا تو ان میں سے ایک نے اس سپاہی کو آواز دی۔میاں سپاہی خدا کے واسطے میری بات سننا۔سپاہی سمجھا کہ بے چارہ کوئی مصیبت میں مبتلا ہو گا۔جب وہاں گیا تو دیکھا کہ دو آدمی لیٹے ہوئے ہیں۔سپاہی نے ان سے پوچھا کیوں بھئی تم نے کیس لئے مجھے بلایا ہے؟ ان میں سے ایک نے کہا، میاں سپاہی تمہیں اس لئے بلایا ہے کہ یہ بیر جو میری چھاتی پر پڑا ہے ، ذرا تکلیف کر کے میرے منہ میں ڈال دینا سپاہی کو بہت غصہ آیا۔ایک تو بات ہی غیر معقول تھی اور دوسرے وہ تھا بھی سپاہی۔اس نے اسے گالیاں دینی شروع کیں۔خبیث، بدمعاش تو نے مجھے سو گز سے بلایا۔کمبخت تیرے ہاتھ موجود نہیں کہ تو چھاتی سے بیر اٹھا کر منہ میں ڈال لے۔اس کا ساتھی بولا ، میاں سپاہی یہ ایسا کمبخت ہے کہ اس کی بات کچھ نہ پوچھ۔ساری رات کتامیر امنہ چاہتا رہا ہے، اس نے ہشت تک نہیں کی۔یہی حال ہمارے ان اساتذہ کا ہے۔ہر کام میں کہتے ہیں کہ انجمن کچھ نہیں کرتی ، خلیفہ ہماری مدد نہیں کرتا۔ان سے کوئی پوچھے کہ پڑھانا تم نے ہے یا ہم نے ؟ کیا ہمارے پاس کوئی اور کام نہیں ہے؟ ہم اپنے محکموں کا کام کریں یا تمہارا کریں؟ یہ تمہارا فرض تھا کہ اگر لڑ کے کام نہیں کرتے تھے تو تم ان کے ماں باپ کو بلاتے اور ان کو ان کے حالات سے آگاہ کرتے ،محلوں میں جلسے کرتے اور ان کو اس کی طرف متوجہ کرتے ، آخر محبت اور پیار کے ساتھ ہزاروں باتیں ہو جاتی ہیں۔پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ تم ان کو محبت اور پیار سے بار بار کہتے ، ان کے والدین کو توجہ دلاتے تو وہ لڑکے سدھر نہ جاتے ؟ اگر بفرض محال بار بار توجہ دلانے کے بعد بھی کچھ رہ جاتے جو اس طرف متوجہ نہ ہوتے تو پھر تم ان کو قواعد کے مطابق سزائیں دیتے۔یہ سب کچھ ہو سکتا ہے۔لیکن وہ چاہتے ہیں کہ آرام سے بیٹھے رہیں اور ان کا کام کوئی اور کر دے۔پس میرے نزدیک اس کی کلی طور پر ذمہ داری سکول کے عملہ پر ہے اور کالج کے لڑکوں کی ذمہ داری کالج کے عملہ پر ہے۔اگر سکول یا کالج کا نتیجہ خراب ہو اور کالج یا سکول کا عملہ اس پر عذر کرے تو میں تو کہوں گا ، یہ منافقانہ بات ہے۔اگر لڑ کے ہوشیار نہیں تھے، اگر لڑکے محنت نہ کرتے تھے اور اگر لڑ کے پڑھائی کی طرف متوجہ نہ ہوتے تھے تو ان کا کام تھا کہ وہ ایک ایک کے پاس جاتے اور ان کی اصلاح کرتے۔اگر وہ متوجہ نہ ہوتے تو ان کے والدین کو اس طرف متوجہ کرتے اور ان کو مجبور کرتے کہ وہ تعلیم کو اچھی طرح حاصل کریں۔ہماری جماعت کے لئے اعلی تعلیم کا حصول اب نہایت ضروری ہے۔اگر ہم میں اعلی تعلیم یافتہ نہ ہوں گے تو ساری سکیم فیل ہو جائے گی کیونکہ کام پر کام نکل رہے ہیں۔جس کی وجہ سے مانگ پر مانگ آرہی 665