تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 641
تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 02 نومبر 1945ء ہر ماہ ایک آنہ فی روپیہ تک پہنچ گیا ہے۔بلکہ اگر دوسری تحریکوں کے چندوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ دس فیصدی تک پہنچ جاتا ہے۔اس میں شک نہیں کہ بعض لوگ جو نکھے اور بے اثر ہیں ، وہ ایک آنہ فی روپیہ بھی چندہ نہیں دیتے۔لیکن ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے۔اکثر ایسے ہیں، جو بہت زیادہ چندہ دیتے ہیں۔حالانکہ اس کی ابتدا تین ماہ میں ایک دھیلہ سے ہوئی تھی۔پھر جن لوگوں کی وصیت ہے، ان میں سے بعض پندرہ فی صدی تک دیتے ہیں ، بعض ایسے ہیں، جو تینتیس فیصدی تک دیتے ہیں اور بعض ایسے ہیں، جو پچاس فی صدی تک۔بلکہ اس سے بھی زیادہ دیتے ہیں اور ابھی ہم خوش نہیں۔بلکہ سمجھتے ہیں کہ انہیں اس سے بھی زیادہ قربانی کرنی چاہئے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تین ماہ میں ایک دھیلے سے کام شروع کیا تھا تو سیکر ٹری صاحب تجارت کون ہیں کہ ان کا کام پہلے دن ہی روپیہ سے شروع ہو۔پس لوگوں کو بار بار تحریک کرتے رہنا چاہئے۔جو آج قاتل نہیں ، وہ کل ہو جائیں گے۔جو کل قائل نہ ہوں گے، وہ پرسوں قائل ہو جائیں گے۔جو پرسوں قائل نہ ہوں گے، وہ ترسوں قائل ہو جائیں گے۔اس کے بالمقابل میں احمدی صناعوں کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ وقت کی ضرورت کو پہچانیں اور جو بھی ان کی صنعت ہو مثلاً کوئی بٹن بنارہا ہے، کوئی سیاہی بنا رہا ہے، کوئی پالش بنارہا ہے، وہ اپنے اپنے نمونے محکمہ تجارت کو بھجوادیں۔کیونکہ جہاں جہاں محکمہ کی ایجنسیاں قائم ہوگئی ہیں، وہاں کے لوگ نمونے مانگتے ہیں اور محکمہ کے پاس نمونے نہ ہوں تو اسے بہت دقت پیش آتی ہے۔مجھے حیرت ہوتی ہے کہ تاجروں اور صناعوں کا عجیب قسم کا مطالبہ ہے کہ سلسلہ ان کی چیزوں کی ایڈور ٹائز منٹ بھی کرے اور جب باہر سے ان چیزوں کے نمونے مانگے جائیں تو قیمت خرید کر بھیجے۔جو لوگ نمو نے مفت دیں ، ان کا مطالبہ تو کسی قدر صحیح تسلیم کیا جاسکتا ہے لیکن جن لوگوں نے نمونے مفت نہیں دیئے ، ان کا یہ مطالبہ کسی طرح درست نہیں کہ ہماری چیزوں کے اشتہار بھی تم دو۔اور اگر باہر سے ان چیزوں کے نمونے مانگے جائیں تو خرید کر بھیج دو۔آج کل تجارت میں کامیابی کا سب سے بڑا راز یہی سمجھا جاتا ہے کہ اشتہار سے کام لیا جائے اور اپنی چیز کو ملک میں زیادہ سے زیادہ شہرت دی جائے۔انگلستان میں اس بات کا اس قدر خیال رکھا جاتا ہے کہ ویمبلے ایگزیبیشن میں ایک تین آنے کی نب کے لئے اس کے مالک نے بائیس ہزار روپیہ دے کر ایک میز کی جگہ لی۔میں نے اس سے پوچھا کہ تین آنے کی نب کے لئے آپ نے بائیس ہزار روپیہ خرچ کیا ہے۔اس سے آپ کو کیا فائدہ ہوگا؟ اس نے کہا کہ یہ رقم تو کچھ بھی نہیں۔ہمارا ڈیلی میل میں روزانہ اشتہار چھپتا ہے۔اس کے لئے ہم پندرہ ہزار پونڈ سالانہ ڈیلی میل والوں کو دیتے ہیں۔گویا سوا دولاکھ روپے وہ اشتہار کے لئے ڈیلی میل والوں کو دیتے تھے۔حالانکہ ان کو کوئی خاص کامیابی بھی نہ ہوئی۔کیونکہ بعد میں، میں نے 641