تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 640
خطبہ جمعہ فرمودہ 02 نومبر 1945ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد دوم اگر وہ تعاون کرتے تو ان کی چیزیں ہزار جگہ بکنے لگ جاتیں۔پس محکمہ کو کسی طرح بھی نقصان نہیں لیکن اگر فرض کیا جائے کہ محکمہ کو اس کام میں اس کی نادانی اور ناواقفی کی وجہ سے کامیابی نہ ہو۔پھر بھی ہمارا فائدہ ہے کہ ایک احمدی تاجر یا صناع کے چار پانچ روپے کے نمونے بچ گئے۔گو عام طور پر کمیشن ایجنسی۔نقصان نہیں ہوا کرتا۔پس اس بات کی پروا نہیں کرنی چاہئے کہ کوئی تعاون کرتا ہے یا نہیں کرتا بلکہ بار بار تحریک کرتے رہنا چاہئے۔کیونکہ یہ ایک نیا کام ہے اور ہرنئی چیز سے لوگ گھبراتے ہیں اور جب بار بار وہی چیز ان کے سامنے آتی ہے تو پھر اس سے مانوس ہو جاتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ محکمے کی نا تجربہ کاری ہے کہ وہ اتنی جلدی گھبرا گئے ہیں۔یہ ضروری نہیں ہوتا کہ ایک آواز اٹھائی جائے تو سب لوگ فوراً اس کی طرف بھاگ پڑیں۔بلکہ دنیا کا یہ قاعدہ ہے کہ جب ایک کام کے متعلق کہا جائے کہ یہ مفید ہے تو وہ لوگ ، جو اصل حالات سے واقف نہیں ہوتے ، وہ اپنے علم اور کہنے والے کے علم کا مقابلہ کرتے ہیں اور چونکہ ہر ایک کا علم الگ الگ ہوتا ہے۔اس لئے وہ لوگ اس کام کے کرنے میں تاخیر کرتے ہیں اور جب ان پر واضح ہو جاتا ہے کہ یہ کام واقعی مفید ہے تو خود بخود اس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔صنعت و حرفت کرنا اور چیز ہے اور صنعت و حرفت کو منظم کرنا اور چیز ہے۔تجارت کرنا اور چیز ہے اور تجارت کو منظم طور پر چلانا اور چیز ہے۔یہ ضروری نہیں کہ جو شخص تجارت کی تنظیم کرسکتا ہو ، وہ تجارت بھی اعلی درجے کی کر سکتا ہو۔یا جو شخص صنعت و حرفت میں کامیاب ہو ، وہ اس کی تنظیم میں بھی کامیاب ہو۔یا جو شخص تجارت میں کامیاب ہو، وہ اس کی تنظیم میں بھی کامیاب ہو۔یا جو شخص صنعت و حرفت کی تنظیم میں کامیاب ہو، وہ صنعت وحرفت بھی اعلیٰ درجے کی جانتا ہو۔یہ دونوں الگ الگ راستے ہیں۔اس لئے ضروری نہیں کہ تمام صنائع یا تا جر سیکرٹری تجارت کی بات فورا مان لیں۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے سیکرٹری تجارت کسی کو کہے کہ دوروپے جو ہر میں ڈال دو تو وہ کبھی بھی اس کے لئے تیار نہیں ہوگا۔اسی طرح اگر سیکرٹری تجارت کسی کو کہے کہ دوروپے کا نمونہ جو ہر میں پھینک دو تو وہ بھی بھی پھینکنے کے لئے تیار نہیں ہوگا اور وہ نہ پھینکنے میں حق بجانب ہوگا۔اسی طرح اس وقت عام لوگوں کے نزدیک سیکرٹری تجارت کو نمونہ دینا گویا جو ہر میں ڈالنے کے مترادف ہے، اس لئے وہ تعاون نہیں کرتے۔پس گھبرانے کی ضرورت نہیں بلکہ بار بار مختلف رنگوں میں تحریک کرتے رہنا چاہئے۔ابتدا میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ جماعت کے لوگوں کو چندہ ضرور دینا چاہئے خواہ تین مہینے میں ایک دھیلہ ہی دیں۔لیکن آہستہ آہستہ تین ماہ میں ایک دھیلہ سے بڑھتے بڑھتے 640