تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 621 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 621

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 12 اکتوبر 1945ء کے ضروری مسائل سے ان کو واقف کر دیں گے تاکہ واپس جا کر وہ اپنے علاقوں میں تبلیغ کا کام کر سکیں۔لیکن اگر ایسا بھی ہو جائے تو صرف پانچ ، چھ ہزار گاؤں ایسے ہوں گے ، جہاں ہماری تبلیغ پہنچ سکے گی۔حالانکہ ہندوستان میں آٹھ لاکھ گاؤں ہیں۔اگر پانچ ، چھ ہزار آدمیوں کو قرآن شریف پڑھا بھی دیا تو اس سے صرف پانچ ، چھ ہزار گاؤں میں تبلیغ ہوگی۔گویا سو میں سے صرف ایک جگہ ایسی ہوگی ، جہاں تبلیغ پہنچے گی۔لیکن اگر چار، پانچ ہزار آدمی ایسے نکل آئیں ، جو چار، پانچ ہزار جگہوں میں جا کر بیٹھ جائیں اور تجارت کریں تو چونکہ آٹھ ، دس گاؤں کو ایک آدمی سنبھال سکتا ہے۔اگر چار، پانچ ہزار گاؤں یا قصبوں میں اتنے آدمی بیٹھ جائیں تو چالیس، پچاس ہزار گاؤں تک ہم اپنی تبلیغ کو وسیع کر سکتے ہیں۔اگر ہماری جماعت کے نو جوان اس طرف توجہ کریں تو میں سمجھتا ہوں ، پچیس ہزار شہروں اور قصبات میں ہیں، پچیس ہزار تاجروں کا بٹھلا دینا کوئی مشکل بات نہیں۔ہیں، پچیس ہزار جگہوں پر ہیں، پچیس ہزار تاجروں کے بیٹھ جانے کے معنی یہ ہوں گے کہ قریباً سارے ہندوستان میں ہم اپنی تبلیغ کو پھیلا سکیں گے۔کیونکہ ہر آدمی آٹھ ، دس میل کے علاقہ تک اپنی تبلیغ آسانی سے پہنچا سکے گا۔احمدیت ایک ایسی چیز ہے، جسے کوئی شخص اپنی ذات تک محدود نہیں رکھ سکتا۔جیسے مشک کی خوشبو رو کی نہیں جاسکتی ، جس طرح گلاب کے عطر کی خوشبو چھپائی نہیں جا سکتی، اسی طرح احمدیت بھی ایک ایسی چیز ہے کہ جہاں چلی جائے ، اس کی خوشبو صرف اس جگہ تک محدود نہیں رہتی بلکہ اردگرد بھی پھیل جاتی ہے۔مگر ہر چیز کے پھیلنے کی ایک حد ہوتی ہے۔لوگ کہتے ہیں، مشک کی خوشبو کو چھپایا نہیں جاسکتا ، گلاب کی خوشبو کوروکا نہیں جا سکتا مگر ایک حد تک۔ہم عطر کی خوشبو یا مشک کی خوشبو کو پندرہ ، ہیں یا تمیں گز تک تو نہیں چھپا سکتے۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مشک اگر یہاں پڑی ہے تو امریکہ کے لوگ اس کی خوشبو سونگھ سکتے ہیں۔بہترین سے بہترین ہرن کی مشک لا کر اور کسی جگہ رکھ کر یہ امید کرنا کہ چار پانچ میل سے اس کی خوشبو سوکھی جائے ، ایک غلط امید ہوگی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے احمدیت کو ایک ایسی طاقت بخشی ہے کہ میلوں میل تک اس کی آواز پہنچ جاتی ہے۔اگر ایک گاؤں میں ایک احمدی ہو تو ارد گرد کے پانچ سات میل تک لوگ احمدیت سے واقف ہو جاتے ہیں۔وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نہیں جانتے ، احمدیت کیا چیز ہے؟ لیکن اگر کسی جگہ ایک احمدی ہو اور اردگرد ہیں ہمیں میل تک کوئی احمدی نہ ہو تو اکثر لوگ کہہ سکیں گے کہ ہمیں پتہ نہیں ، احمدیت کیا چیز ہے؟ اگر ہم ہیں، پچیس ہزار مبلغ اس طرح پھیلا دیں کہ ہر سات آٹھ میں کے دائرے میں ایک احمدی تاجر ہو تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہندوستان کا کوئی فرد یہ نہیں کہہ سکے گا کہ 621