تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 50
خطبہ جمعہ فرمودہ 29 نومبر 1940ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم ہونے کی سچی خواہش اور تڑپ رکھتے ہیں مگر غربت اور مالی تنگی کی وجہ سے حصہ نہیں لے سکتے تو خدا تعالیٰ کے حضور بھی اور اس کے سمجھ دار بندوں کے نزدیک بھی وہ انہی لوگوں میں شامل ہیں جو باقاعدہ چندہ دیتے ہیں کیونکہ گو انہیں توفیق نہیں کہ وہ اس میں حصہ لے سکیں مگر ان کے دل اپنی اس محرومی پر دکھتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ کاش! ان کے پاس روپیہ ہوتا اور وہ بھی اس تحریک میں شامل ہوتے۔پس چونکہ خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ بہانہ نہیں بنارہے بلکہ محض غربت کی وجہ سے اس میں حصہ نہیں لے سکے اور ان کے دل اپنی محرومی پر دکھ رہے ہیں۔اس لئے خدا انہیں انہی لوگوں میں شامل کرے گا، جنہوں نے اس میں حصہ لیا۔وہ ایسا نہیں کہ محض اس وجہ سے کہ کسی شخص نے عملاً حصہ نہیں لیا، اسے ثواب سے محروم کر دے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے ثواب قلب کی حالت پر آتا ہے، ظاہری فعل پر نہیں آتا۔ظاہری فعل تو محض ایک دلیل ہوتا ہے جیسے آگ جل رہی ہو تو اس میں سے دھواں نکلتا ہے۔یہ دھواں اس بات کی دلیل ہوتا ہے کہ آگ جل رہی ہے اگر دھوئیں کے بغیر بھی آگ ہو سکتی تو ہم دھوئیں کو نہ دیکھتے بلکہ محض آگ کو دیکھتے۔اسی طرح عمل بغیر ایمان کے نہیں ہو سکتا۔ایمان کا دھواں عمل ہے اور جب یہ دھواں اٹھ رہا ہو تو ہم سمجھ لیتے ہیں کہ ایمان کی آگ فلاں شخص کے دل میں موجود ہے اور جب یہ دھواں نہیں اٹھتا تو ہم سمجھ لیتے ہیں کہ ایمان کی آگ فلاں شخص کے قلب میں نہیں۔اسی کی طرف شاید قرآن کریم میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ: وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ که عمل صالح ایمان کو بلند کرتا ہے اور عمل صالح سے ہی کسی کے ایمان کا پتہ لگتا ہے۔جس طرح دھوئیں سے آگ کا پتہ لگتا ہے۔تو ایسے لوگ جن کو اس تحریک میں حصہ لینے کی توفیق نہیں مگر ان کے دل میں بار بار در داٹھتا ہے اور انہیں اس بات پر افسوس آتا ہے کہ دوسرے لوگ تو حصہ لے رہے ہیں مگر وہ اپنی غربت کی وجہ سے اس ثواب میں شریک نہیں ہو سکے اور کم از کم وہ دعا کرتے رہتے ہیں کہ اے خدا ! گوتو نے ہمیں اس میں شامل ہونے کی توفیق نہیں بخشی مگر ہمارے دل اس درد سے بھرے ہوئے ہیں اور ہم دعا کرتے ہیں کہ تو اس تحریک میں برکت ڈال اور اس میں حصہ لینے والوں کو ان کے مقاصد میں کامیاب کر! تو ایسے لوگوں کو خدا علیحدہ نہیں رکھ سکتا بلکہ انہی لوگوں میں ان کو شامل کرے گا جنہوں نے اس تحریک میں حصہ لیا اور ہر شخص اپنے اپنے درد اور کرب کے درجہ کے مطابق اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرے گا مثلاً ایک شخص نے اس تحریک میں پانچ روپے دیئے ہیں، دوسرے نے دس، تیسرے نے ہیں اور چوتھے نے سو۔پھر کسی نے 50