تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 49
خطبہ جمعہ فرمودہ 29 نومبر 1940ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم چھوٹی ہی تھی۔گورسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ایک سال بڑے تھے یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی عمر اس وقت بیالیس سال تھی اور آپ کی تینتالیس سال مگر ان کی عقل کا سکہ لوگوں کے قلوب پر بیٹھا ہوا تھا اور مکہ کے بڑے بڑے لوگ بھی یہ سمجھتے تھے کہ ان کی بات معقول ہوتی ہے۔انہوں نے سمجھایا کہ تمہیں پتہ نہیں مکہ میں جتنا غلہ آتا ہے سب اس کے علاقہ میں سے گزر کر آتا ہے۔اگر اس کے قبیلے والوں کو معلوم ہوا کہ مکہ کے آدمیوں نے اسے مارا ہے تو وہ اس ذلت کو برداشت نہیں کر سکیں گے اور غلے کو روک لیں گے۔پھر تم کھاؤ گے کہاں سے؟ اس پر انہوں نے ابوذر کو چھوڑ دیا مگر دوسرے دن انہوں نے پھر قریش مکہ کو اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے خلاف باتیں کرتے ہوئے دیکھا تو پھر بلند آواز سے کلمہ توحید پڑھ دیا اور پھر نو جوان انہیں مارنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔اس پر پھر حضرت عباس نے انہیں چھڑا دیا۔غرض اسی طرح مسلسل تین دن ہوتا رہا۔اس کے بعد اسلام کو چھپانے کا سوال ہی نہ رہا۔ابوذر اسلام کے لئے ایک منگی تلوار بن گیا اور پھر یہ تلوار موت تک میان میں نہیں گئی۔ان کی طبیعت بعد میں بھی ایسی جو خیلی رہی کہ ذراسی بات بھی اگر وہ نا پسند دیکھتے تو فورا شور مچادیا کرتے تھے۔اب دیکھو ایک تو وہ شخص تھا جس نے منزلوں دور یہ اڑتی ہوئی خبر سنی کہ ایک پاگل ہے جس نے مکہ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ خدا کا رسول ہے۔اور وہ یہ سنتے ہی گھر سے نکل کھڑا ہوا اور اس نے سمجھا کہ خدا کی طرف اپنے دعوے کو منسوب کرنے والے کی بات ضرور سنی چاہئے۔مگر خود مکہ میں رہنے والے محروم رہے۔بہت تھے جو دو دو سال نہیں، چار چار سال نہیں، آٹھ آٹھ سال نہیں، بارہ بارہ سال نہیں ہیں ہیں، اکیس اکیس سال تک مخالف رہے اور پھر یا تو تباہ ہو گئے یا بہت بعد اسلام میں داخل ہوئے۔تو متواتر ربع صدی یا شمس صدی کے قریب انہوں نے مخالفتیں کیں اور ان کو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قرب کا کوئی فائدہ نہ ہوا کیونکہ خدا نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی تھی اور جن کے دلوں پر مہر لگ جائے خدا انہیں اپنی برکات سے حصہ نہیں دیتا۔یہ مہر علی قدر مراتب لگتی ہے۔یہ نہیں کہ کفر کی وجہ سے لگے بلکہ جس طرح کفر کی شدت کی وجہ سے انسانی قلب پر مہرلگتی ہے اسی طرح کبھی ایمان کی قلت کی وجہ سے انسانی قلب پر مہر لگ جاتی ہے اور یہ مہر انسان کو اعلی نیکی سے محروم کر دیتی ہے۔تو جن لوگوں کو اس تحریک میں اب تک حصہ لینے کا موقع نہیں ملاخواہ کسی گناہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو اس میں حصہ لینے سے محروم رکھا ہے اور خواہ ستی اور غفلت کی وجہ سے با وجود توفیق کے انہوں نے اس میں حصہ لینا ضروری نہیں سمجھا ، انہیں بھی اس کے متعلق کچھ کہنا فضول ہے اور جن کو اس تحریک میں لینے کی توفیق ہی نہیں، وہ معذور ہیں اور انہیں بھی کچھ کہنا لا حاصل ہے۔اگر وہ اس تحریک میں شامل 49