تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 598 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 598

خطبہ جمعہ فرمودہ 105اکتوبر 1945ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد دوم زیادہ صحیح نکلی ہے۔پھر بھی ہم میں سے ہر ایک میں ابھی یہ مادہ پیدا نہیں ہوا ہے کہ وہ اس قسم کی مثالوں کی موجودگی میں بھی میری ہدایات کی پوری قدر کر سکیں۔بالعموم وہ ان امور کے متعلق اپنے دل میں کہہ دیتے ہیں کہ یہ دنیوی مشورہ ہے، ہم ان امور کے متعلق خود اچھی طرح سوچ سمجھ سکتے ہیں، اس لئے ان باتوں کی زیادہ قدر کرنے کی ضرورت نہیں۔مثلاً میں نے وقت پر خدا تعالیٰ سے خبر پا کر جماعت کو دو، تین سال ہوئے ،1942ء کے آخر میں یا 1943ء کے شروع میں اطلاع دی تھی اور جلسہ سالانہ کے موقعہ پر اس خواب کو بیان بھی کر دیا تھا اور ہدایت کی تھی کہ ہماری جماعت کے لوگوں کو خود اپنے گھروں میں کپڑے بنانے کی کوشش کرنی چاہئے اور اس دستکاری کو جاری کرنا چاہئے کیونکہ آئندہ کپڑے کے قحط کا امکان ہے۔جس وقت میں نے یہ بات کہی تھی اس وقت بازاروں میں ہر قسم کا کپڑا ملتا تھا گو مہنگا تھا مگر جہاں تک میرا خیال ہے، ساری جماعت میں سے درجن، دو درجن آدمیوں کے سوا کسی نے اس امر کی طرف توجہ نہ کی۔پھر وہ دن آگئے جب کپڑے کی اس قدرنگی ہوئی کہ ابھی تھوڑے دن ہوئے کہ ایک غریب احمدی نے مجھے لکھا کہ میرے پاس ایک ہی کرتا ہے اور وہ بھی جگہ جگہ سے پھٹ گیا ہے، اس کی باہیں بھی پھٹ گئی ہیں اور پیچھے سے بھی پھٹ گیا ہے۔نئے کرتے کا تو سوال ہی نہیں، اس پھٹے ہوئے کرتے پر پیوند لگانے کے لئے بھی مجھے کپڑا نہیں ملتا۔اب یہ حال ہماری جماعت کا ہے۔اگر ہماری جماعت کے لوگ اس رویا کی بنا پر توجہ کرتے اور دل میں یہ خیال نہ کر لیتے کہ یہ ایک دنیوی امر ہے، اس کا دین کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ اور گھروں میں سوت کا تا جانے لگتا اور کپڑا بنوایا جانے لگتا تو تم دیکھ لیتے کہ دنیوی تکالیف کا دور ہو جاتا تو الگ رہا، ہمارے سلسلے کی طرف سے ایک عظیم الشان پراپیگنڈا ہوتا اور تبلیغ بھی خوب ہوتی۔ہزار ہا احمدی شہروں میں جب باوجود کانگریس کی مخالفت کے کھدر پہنے ہوئے نظر آتے۔سارے نہ سہی ، ان لوگوں کو نکال کر جن کے پاس پہلے سے کافی کپڑے موجود تھے، باقی جن کے پاس کپڑے نہیں تھے اور جنہوں نے بڑی بڑی تکالیف اٹھا کر بلیک مارکیٹ سے کپڑ ا خریدا، اگر ایسے لوگ کھدر پہنتے تو کتنا پراپیگنڈا ہوتا اور ہماری جماعت کے لئے کتنا مفید ہوتا؟ مثلاً ایک بیرسٹر کورٹ میں کھدر کے کپڑے پہن کر جاتا تو بیسیوں بیرسٹر پوچھتے کیا آپ کا نگریسی ہو گئے ہیں؟ آپ تو کانگریس کی مخالفت کیا کرتے تھے اور کھد کا کپڑا پہنے کا تو گاندھی جی کا حکم تھا، آپ نے کھدر کیوں پہننا شروع کر دیا ؟ اور وہ کہتے ہمارے امام نے خواب دیکھی ہے کہ کپڑے کی قلت ہونے والی ہے۔اس لئے انہوں نے کہا ہے کہ ان غریبوں کے لئے قربانی کر کے آسودہ حال لوگ کھدر پہننا شروع کر دیں تو ایک 598