تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 590 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 590

خطبہ جمعہ فرمودہ 07 ستمبر 1945ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد دوم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قوم کو اس لئے کامیابی حاصل ہوئی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان و مال کے کی بے دریغ قربانی کی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کو اس لئے کامیابی حاصل ہوئی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان و مال کی بے دریغ قربانی کی۔کرشن اور زرتشت کی جماعتوں کو اس لئے کامیابی حاصل ہوئی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان و مال کی بے دریغ قربانی کی۔ہمیں کوئی مثال ایسی نظر نہیں آتی کہ بغیر جانی و مالی قربانیوں کے کسی قوم کو کامیابی حاصل ہوئی ہو۔ہماری جماعت کے سامنے ابھی جانی قربانی کا مطالبہ پیش نہیں کیا گیا۔ہاں تحریک جدید میں وقف زندگی کا مطالبہ جماعت کے نوجوانوں کے سامنے پیش کیا گیا اور یہ پہلا قدم ہے، جو جانی قربانی کی طرف لے جانے کے لئے اٹھایا گیا ہے۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ابتداء میں چندے کے متعلق فرمایا کہ ہر احمدی کے لئے ضروری ہے کہ کچھ نہ کچھ چندہ ضرور دے۔خواہ تین ماہ میں ایک دھیلہ ہی دے۔آہستہ آہستہ یہ مطالبہ ترقی کرتے کرتے 1/10 حصہ تک پہنچ گیا۔جولوگ موصی نہیں ہیں اور اپنے اندر اخلاص رکھتے ہیں ، ان کے تمام قسم کے چندے اگر ملالئے جائیں تو وہ 1/10 تک پہنچ جائیں گے۔اور جنہوں نے وصیت کی ہوئی ہے، اگر ان کے سارے چندے جمع کر لئے جائیں تو 0 2/1 تک پہنچ جائیں گے اور بعض کے 3/10 تک۔اور بعض انگلیوں پر گنے جانے والے ایسے بھی ہیں، جن کے تمام قسم کے چندے جمع کئے جائیں تو وہ 4/10 تک یا 5/10 تک پہنچ جائیں گے۔یہ مالی قربانی تین ماہ میں ایک دھیلہ سے شروع ہو کر موجودہ حالت پر پہنچ گئی ہے۔کیونکہ انسان کو ایک قربانی کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دوسری قربانی کی توفیق ملتی ہے۔اسی طرح میں سمجھتا ہوں کہ جماعت کی موجودہ قربانیاں آئندہ قربانیوں کا راستہ کھولنے والی ہوں گی۔اور جس کے دل میں آئندہ قربانیوں کے لئے انقباض پیدا نہ ہو، اسے سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی قربانیوں کو قبول کر لیا ہے اور آئندہ قربانیوں کے لئے بھی اسے اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے گا۔لیکن جس شخص کے دل میں آئندہ قربانیوں کے لئے انقباض پیدا ہوتا ہے اور وہ اپنے آپ کو تھکا ہوا پاتا ہے، اسے سمجھ لینا چاہیے کہ اس کی نیت کی خرابی کی وجہ سے یا اور کسی گناہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کی قربانیوں کو قبول نہیں کیا اور اس کی قربانیاں ضائع ہوگئی ہیں۔کیونکہ یہ ہو نہیں سکتا کہ اچھا بیج بویا جائے اور وہ اچھا پھل نہ لائے۔اگر کسی شخص کو ان قربانیوں کے نتیجہ میں مزید چندے دینے اور خدا کی راہ میں مزید تکلیفیں برداشت کرنے کی توفیق نہیں ملتی تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ اس سے کوئی ایسا گناہ سرزد ہوا ہے، جو اس کے 590