تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 589 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 589

خطبہ جمعہ فرمودہ 07 ستمبر 1945ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم قوموں نے کیں۔اور تمہارے لئے وہی راستہ مقدر ہے، جس پر پہلے انبیاء کی جماعتیں تم سے پہلے چلیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے فرمایا کہ تم سے پہلے لوگوں کے سروں پر آرے رکھ کر ان کو چیر دیا گیا لیکن وہ اپنے ایمان پر ثابت قدم رہے۔اور یہ ادنی بشاشت ایمان ہے۔جب ادنی بشاشت ایمان ا یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان تک بھی قربان کرنے سے دریغ نہ کرے تو اعلیٰ بشاشت ایمان کے متعلق اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ وہ کیا کیا قربانیاں کرنے کے بعد حاصل ہوتی ہے؟ بہر حال ہمارے لئے ابھی ان ادنی بشاشت ایمان والی قربانیوں کا کرنا ضروری ہے۔لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جماعت ابھی اس قابل نہیں ہوئی، اس لئے ابھی جانی قربانی کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔جیسے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ اصل میں تو ایک مومن دس کافروں پر بھاری ہے لیکن چونکہ تم میں ابھی کمزوری اور ضعف ہے، اس لئے اب تم میں سے ایک مومن کو کم سے کم دو کافروں کے مقابلہ سے نہیں بھاگنا چاہئے۔تو ہر ایک کام کے لئے اللہ کی طرف سے ایک وقت مقدر ہوتا ہے، جب وہ وقت آ جاتا ہے تو اس کام کے کرنے کا اللہ تعالیٰ حکم دے دیتا ہے۔جماعت کے بعض لوگوں سے یہ بات سن کر کہ ہمارے لئے یہی رستہ مقدر ہے، جس پر ہم چل رہے ہیں، میں حیران ہوتا ہوں کہ میں ان کی اس سمجھ پر روؤں یا ہنسوں؟ کیونکہ حماقت کی بات پر بعض دفعہ انسان کو ہنسی بھی آجاتی ہے اور بعض دفعہ رونا بھی۔میری بھی یہی کیفیت ہوتی ہے۔جب میں جماعت کے بعض لوگوں کی یہ ذہنیت دیکھتا ہوں کہ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم اسی رستہ پر چلتے چلتے ایک دن ساری دنیا پر غالب آجائیں گے تو میں حیران ہوتا ہوں کہ یہ کیسی حماقت کی بات ہے؟ آج تک کوئی قوم اس رستہ پر چل کر کامیاب نہیں ہوئی، جس پر ہم چل رہے ہیں۔صرف ایک مثال افغانستان کی قربانی کی ہمیں کامیاب نہیں کر سکتی، جب تک کہ ہر ملک اور ہر قوم میں افغانستان جیسی قربانیاں پیش نہ کی جائیں گی۔اس وقت تک ہم کامیابی کا منہ نہیں دیکھ سکتے، جس طرح بارش برستی ہے اور بے تحا شا ہر طرف پانی بہنا شروع ہو جاتا ہے اور کوئی آدمی اس پانی کے بہنے پر تعجب نہیں کرتا اور اسے کوئی انوکھی چیز نہیں بجھتا، اس طرح ہمیں اپنے مال اور اپنی جانیں بے دریغ اللہ تعالی کی راہ میں بہانی پڑیں گی۔اور ہر وہ شخص، جو اس رستے پر چلنا نہیں چاہتا اور کامیابی کو اس راستہ سے حاصل نہیں کرنا چاہتا، میں اسے بتادیتا ہوں کہ وہ ہمارے ساتھ نہیں چل سکتا۔وہ دشمن ہے احمدیت کا ، وہ دشمن ہے احمدیت کی ترقیات کا۔ہمارے لئے پہلی قوموں کی مثالیں موجود ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ کو اس لئے کامیابی حاصل ہوئی کہ انہوں نے اللہ تعالٰی کی راہ میں بے دریغ جان ومال کی قربانی کی۔589