تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 586 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 586

خطبہ جمعہ فرمودہ 07 ستمبر 1945ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم پھر قربانیاں بھی اوقات کے بدلنے کے ساتھ بدلتی چلی جاتی ہیں۔ایک وقت مالی قربانی کی ضرورت ہوتی ہے تو دوسرے وقت جانی قربانی کی ضروت ہوتی ہے۔یہ کبھی نہیں ہوا کہ ہمیشہ ایک ہی قسم کی قربانی کی کسی قوم کو ضرورت رہے۔پہلی قربانیاں اس موت سے بچانے کے لئے تھیں، جو گزشتہ زمانہ میں یش آسکتی تھی اور آئندہ کی قربانیاں آئندہ کی ہلاکت سے بچنے کے لئے ہیں۔جس نے دو سال پہلے کھانا کھایا تھا، اس نے اس کھانے سے اسی فاقہ کی موت سے نجات حاصل کی تھی ، جو دو سال پہلے آسکتی تھی۔اس کھانے سے وہ دو سال بعد والی موت سے نہیں بچ سکتا۔میں پہلے بھی کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں کہ مومن کبھی بھی اپنی پچھلی قربانیوں کی وجہ مطمئن نہیں ہوتے بلکہ اپنے ایمان کی زیادتی کے لئے قربانیوں میں ترقی کرتے چلے جاتے ہیں۔اور یہ ایک حقیقت ہے کہ جب تک جان ایمان کی حالت میں عزرائیل کے سپرد نہ کر دی جائے ، اس سے پہلے کسی شخص کا مطمئن ہو جانا حد درجے کی حماقت ہے۔گورنمنٹ کے ٹیکسوں کے ادا کرنے میں کبھی ہمارے دل میں یہ خیال پیدا نہیں ہوا کہ ہم نے پچھلے سال ٹیکس ادا کر دیا تھا، اس سال ادا کرنے کی ضرورت نہیں۔بلکہ ساری عمر ٹیکس ادا کرتے چلے جاتے ہیں۔لیکن خدا تعالیٰ کے معاملہ میں ہم سمجھ لیتے ہیں کہ کچھ عرصہ قربانی کر دی تو ہماری ذمہ داری ختم ہوگئی۔ہم پانچ وقتوں میں اللہ اکبر کی آواز بلند کرتے ہیں اور دنیا کے سامنے بآواز بلند اس بات کو پیش کرتے ہیں کہ اللہ ہی سب سے بڑا ہے۔لیکن مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے دل میں خیال پیدا نہیں ہوتا کہ اصل کام تو ہم نے کیا ہی نہیں۔کیا واقع میں کوئی جگہ ایسی ہے یا کوئی مقام ایسا ہے، جہاں اللہ تعالیٰ کو اکبر سمجھا جاتا ہے؟ اس دنیا میں مجھے تو کوئی جگہ ایسی نظر نہیں آتی۔اگر اللہ اکبر کے یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ دنیا کے تمام بادشاہوں، دنیا کے تمام ڈکٹیٹروں، دنیا کے تمام پریذیڈنٹوں سے بڑا ہے اور اس سے بڑا کسی کو نہ سمجھا جائے تو آج دنیا میں یہ ہو نہیں رہا۔لوگ سٹالن کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی کچھ بھی حیثیت نہیں سمجھتے ، ٹرومین کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی کچھ بھی حیثیت نہیں سمجھتے ، میکاڈو کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی کچھ بھی حیثیت نہیں سمجھتے اور ائیلے کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی کچھ بھی حیثیت نہیں سمجھتے۔اللہ تعالیٰ کی آواز سٹالن کی آواز کے مقابلے میں کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتی ، ٹرومین کی آواز کے مقابلے میں کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتی ، میکاڈو کی آواز کے مقابلے میں کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتی اور اٹیلے کی آواز کے مقابلے میں کچھ حیثیت نہیں رکھتی۔یہ بات تو درست ہے کہ ٹرومین ایک آواز بلند کرے تو سارا یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ 586