تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 585
تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد دوم خطبه جمعه فرموده 07 ستمبر 1945ء ہم نے اللہ تعالیٰ کی بادشاہت کو دنیا میں قائم کرنا ہے خطبہ جمعہ فرمودہ 07 ستمبر 1945ء سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔میں پچھلے دو خطبات سے جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلا رہا ہوں کہ اسلام اور احمدیت کے لئے ایک نیا تغیر آئندہ میں سال میں مقدر ہے۔اور وہی لوگ اس دور میں اللہ تعالیٰ کے حضور سرخرو ہو سکیں گے، جو اس دور کے امتحانوں میں کامیاب ہوں گے۔میں نے پہلے بھی توجہ دلائی تھی کہ کسی قوم کی ایک ہی قربانی اس کے ہمیشہ کام نہیں آسکتی۔ہم میں سے ہر ایک آدمی جانتا ہے کہ دن میں ایک یا دو یا تین دفعہ کھانا ضروری ہوتا ہے۔جیسا بھی کسی کے ہاں رواج ہو۔اگر انسان ہر روز کھانا نہ کھائے تو اس کی وہ قوتیں جو تحلیل ہوتی رہتی ہیں ، ان کا بدل پیدا نہیں ہو سکتا۔اسی طرح اگر ایک انسان ہیں سال تک ناک، کان، آنکھوں اور ہاتھ پیر سے کام لیتا ر ہے اور بعد میں کچھ عرصہ کے لئے اپنے ان اعضاء سے کام لینا چھوڑ دے۔مثلاً کانوں میں روئی ٹھونس کر ان کو بند کر دے یا آنکھوں پر پٹی باندھ کر انہیں بیکار کر دے یا ایسے ہی دوسرے اعضاء سے کام نہ لے تو یہ دلیل اس کے ہرگز کام نہ آئے گی کہ میں پہلے میں سال ان اعضاء سے کام لیتا رہا ہوں، اگر اب کام نہ لیا تو کیا نقصان ہوگا ؟ اگر وہ ان اعضاء سے کام نہ لے گا تو یقیناً کچھ دنوں بعد اس کی طاقتیں معطل ہو جائیں گی۔یہی حال روحانی طاقتوں کا ہوتا ہے۔کئی نادان سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے پہلے بہت سی قربانیاں کر دی ہیں، وہی ہمارے لئے کافی ہیں۔ہمیں آئندہ کے لئے قربانیاں کرنے کی ضرورت نہیں۔حالانکہ وہ ہر روز کھانا کھاتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ کل، پرسوں یا ترسوں کا کھایا ہوا کھانا ہمارے لئے کافی ہوگا اور بغیر کسی کے کہنے کے ہر روز کھانا کھا لیتے ہیں۔سوائے بچوں کے کہ والدین ان کو کہہ کر کھانا کھلاتے ہیں کہ کھانا کھا لو نہیں تو معدہ خراب ہو جائے گا اور پانچ دس دن کی تاکید کے بعد وہ بھی اس نصیحت کے محتاج نہیں رہتے۔تو ہر وہ انسان جو یہ سمجھتا ہے کہ پچھلی قربانیاں اس کے لئے کافی ہیں، وہ سخت غلطی پر ہے۔جس طرح کل کا کھایا ہوا، اس کے آج کام نہیں آ سکتا، اسی طرح پچھلی قربانیاں انسان کو آئندہ کے لئے مستغنی نہیں کر سکتیں بلکه روحانی زندگی کو برقرار رکھنے کے لئے ہمیشہ نئی نئی قربانیوں کی ضرورت رہتی ہے۔585