تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 46
خطبہ جمعہ فرمودہ 29 نومبر 1940ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم دور غفار قبیلے کا ایک شخص ابوذر کسی سے سنتا ہے کہ مکہ میں ایک ایسا دیوانہ پیدا ہوا ہے ، جو کہتا ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔انہیں خود ایک ضروری کام تھا۔اس لئے انہوں نے اپنے بھائی کو بلایا اور کہا کہ اونٹ لو اور مکہ جاؤ۔وہ کہنے لگا کہ ایسا کون سا ضروری کام پیش آ گیا ہے، جس کی وجہ سے میرا ابھی مکے جانا ضروری ہے؟ انہوں نے کہا: کہتے ہیں وہاں ایک دیوانہ پیدا ہوا ہے، جو کہتا ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔اے میرے بھائی ! جو کوئی ایسی بات کہتا ہے وہ جھوٹا بھی ہو سکتا ہے اور سچا بھی ہو سکتا ہے۔اگر تو وہ جھوٹا ہے تو تمہارا اس سے کوئی نقصان نہیں ہو گا تم مکہ سے پھر آؤ گے۔اور اگر وہ سچا ہے اور ہم اپنی جگہ بیٹھے رہے تو ہم ثواب کے اس عظیم الشان موقع سے محروم رہیں گے۔اس لئے تم فوراً مکہ جاؤ اور اس بات کا پتہ لگاؤ۔چنانچہ ان کا بھائی مکہ چل پڑا۔حسب دستور مکہ کے دروازوں پر قریش کے بڑے بڑے سردار ا سے ملے اور کہنے لگے کہ کچھ تم نے سنا؟ ہمارا ایک رشتہ دار پاگل ہو گیا ہے۔کسی نے کہا پاگل تو نہیں بلکہ اس نے اپنی ایک دوکان کھول لی ہے۔وہ کہنے لگا سنا تو میں نے بھی ہے۔پھر انہوں نے کہا: بات یہ ہے کہ وہ ہمارا اپنا عزیز اور رشتہ دار ہے ہمیں اس سے کوئی دشمنی نہیں مگر چونکہ اب وہ پاگل ہو گیا ہے اس لئے ہم دوسروں کو یہی نصیحت کیا کرتے ہیں کہ وہ اس پاگل کے قریب نہ پھٹکیں۔کسی نے کہہ دیا کہ پاگل نہیں محض شرارت کر رہا اور لوگوں میں فتنہ برپا کر رہا ہے۔آخر انہوں نے روٹی لی اور اس کے کانوں میں ٹھونس دی اور کہا کہ اول تو تمہارا یہی فرض ہے کہ اس سے ملنے کے لئے نہ جاؤ لیکن چونکہ اس بات کا امکان ہے کہ وہ خود تم سے باتیں کرنے لگ جائے۔اس لئے ہم نے تمہارے کانوں میں روئی ڈال دی ہے کہ تمہارے کانوں میں اس کی باتیں نہ پڑیں ورنہ تمہارا دین خراب ہو جائے گا اور تم بھی اسی کی طرح گمراہ ہو جاؤ گے۔بھائی کے دل میں چونکہ وہ نور نہیں تھا جو ابوذر کے دل میں تھا اس لئے وہ مکہ میں آیا اور پھر پھرا کر واپس چلا گیا۔ابوذر نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ اس مدعی نبوت سے ملے تھے ؟ وہ کہنے لگا بھئی وہ تو پاگل ہے اس کا کیا پوچھتے ہو ؟ اسی طرح کوئی اسے شرارتی کہتا ہے اور کوئی دوکاندار ابوذر کہنے لگے: کیا تم خود اس کے پاس گئے تھے؟ وہ کہنے لگا میں تو گیا ہی نہیں ، جاتے ہی مجھے پتہ لگ گیا تھا کہ وہ پاگل ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کی یہ باتیں تو ہمیں یہاں بھی پہنچ گئی تھیں تمہیں خود جانا چاہئے تھا اور اپنے کانوں سے اس کی باتیں سننی چاہیں تھیں۔مگر خیر اب میں خود جاتا ہوں۔چنانچہ وہ تیار ہوئے اور مکہ میں پہنچ گئے۔جب قریش مکہ کو ان کی آمد کا علم ہوا تو وہ جمگھٹا کر کے ان کے پاس پہنچے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے خلاف انہوں نے آپ کے کان بھرنے شروع کر دیئے۔کسی نے کہا پاگل ہے، کسی نے کہا دوکان دار ہے، کسی نے کہا ہمارے معبودوں کی طرف سے اس پر لعنت پڑ گئی ہے۔غرض کئی قسم کی باتیں 46