تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 45

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم ایمان کا دھواں عمل ہے خطبہ جمعہ فرمودہ 29 نومبر 1940ء سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔خطبہ جمعہ فرمودہ 29 نومبر 1940ء میری طبیعت پیچش کی وجہ سے خراب ہے ، ساتھ ہی کچھ حرارت کی شکایت بھی ہے۔جس کی وجہ سے میں زیادہ دیر تک بول نہیں سکتا۔لیکن چونکہ نومبر کا آخر آ گیا ہے اور یہ وہی ایام ہیں جبکہ تحریک جدید کے نئے سال کے متعلق اعلان کیا جاتا ہے، اس لئے میں آج دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اب وہ ساتویں سال کی تحریک کے لئے اپنے وعدے لکھوانے شروع کر دیں۔میں سمجھتا ہوں اس تحریک کے متعلق اتنی بار اور اتنے رنگ میں اور اتنے تو اتر سے تحریک ہو چکی اور اس کی تفصیلات بیان کی جا چکی ہیں کہ در حقیقت اب کسی لیے خطبے اور واضح بیان کی ضرورت نہیں ہے۔جو لوگ اس قابل ہیں کہ اس تحریک میں حصہ لے سکیں یا جو لوگ اس قابل ہیں کہ اس تحریک کی و ضرورت اور اہمیت کو سمجھ سکیں وہ تو اس میں شامل ہو چکے ہیں۔اور میں سمجھتا ہوں اس وعدہ کے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ دس سال تک اس تحریک میں انشاء اللہ شامل رہیں گے۔اور جولوگ اس قابل نہیں کہ اس تحریک میں شامل ہو سکیں یا قابل تو ہیں مگر اس تحریک کی ضرورت اور اہمیت سمجھنے کے قابل نہیں یا اللہ تعالیٰ نے ان کو کسی گناہ اور شامت اعمال کی وجہ سے اس میں حصہ لینے سے محروم کر رکھا ہے، ایسے لوگوں کو میری کوئی تقریر یا خطبہ یا کسی اور کی کوئی تقریر اور خطبہ کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جس وقت دعویٰ کیا اس وقت مکہ کے لوگ تو اس بات میں مشغول ہو گئے تھے کہ یہ ہمارے دین اور نظام میں رخنہ پیدا کر رہا ہے آؤ سے تباہ کر دیں! وہ نہ خود آپ کی باتیں سنتے اور نہ دوسروں کو سننے دیتے بلکہ اگر کسی مجلس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی باتیں سنانے جاتے تو قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار ایک دوسرے سے کہتے کہ سب مل کر شور مچا دو تا کہ اس کی باتیں کوئی شخص سننے نہ پائے۔چنانچہ وہ شور مچاتے ، تالیاں پیٹتے، گالیاں دیتے اور برا بھلا کہتے اور اس طرح جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سننا چاہتے تھے ، وہ بھی شور کی وجہ سے کچھ نہ سن سکتے تھے۔مگر جب مکہ کے لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے یہ سلوک کر رہے تھے۔اس وقت دور میلوں میل دور، منزلوں 45