تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 510
اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 05 جنوری 1945ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد دوم پس جہاں تبلیغ کے لئے آدمیوں کی ضرورت ہے، وہاں نئے داخل ہونے والوں کو دین سکھانے کے لئے بھی آدمیوں کی ضرورت ہے۔کوئی شخص پورے طور پر کسی مذہب کو سیکھ کر اسے اختیار نہیں کیا کرتا۔ہر وہ شخص جو مسلمان ہوتا ہے یا عیسائیت یا یہودیت کو اختیار کرتا ہے، وہ ان مذاہب کو پوری طرح سیکھ کر نہیں کرتا۔دیگ میں سے چاولوں کے چند دانے ہی دیکھے جاتے ہیں اور پھر قیاس کر لیا جاتا ہے کہ تمام چاول پک چکے ہیں۔اسی طرح کسی مذہب کو اختیار کرنے والا بھی اس کی پوری جزئیات سمجھ کر اختیار نہیں کرتا۔جو لوگ حضرت نوح علیہ السلام پر ایمان لائے، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ایمان لائے ، جو حضرت موسی علیہ السلام پر ایمان لائے، جو حضرت عیسی علیہ السلام پر ایمان لائے یا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر ایمان لائے ، وہ ان کی تعلیمات کی پوری پوری جزئیات اور تفاصیل کو سمجھ کر ایمان نہ لائے تھے بلکہ بعض اصولی باتوں کو دیکھ کر لائے تھے۔انہیں باتوں کو دیکھ کر انہوں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ یہ دین سچا ہے“۔" پس ہمارے پاس کافی مبلغ ہونے ضروری ہیں۔جو احمدیت کو دنیا کے کناروں تک پھیلا سکیں۔اور جو نئے آنے والوں کو اسلام اور احمدیت کی صحیح تعلیم دے سکیں۔مگر اس کے لئے ہم نے کون سے سامان کئے ہیں؟ ایک مدرسہ احمدیہ جاری ہے۔اور یہ امر ظاہر ہے کہ کوئی ایک مدرسہ ساری دنیا میں تبلیغ کے لئے مبلغ مہیا نہیں کر سکتا“۔" ہم نے جو سکول تعلیم دین کے لئے جاری کر رکھا ہے، اس کی یہ حالت ہے کہ سارے سال میں اس میں صرف آٹھ طالب علم داخل ہوئے ہیں۔اور یہ وہ پہلی جماعت ہے، جو آٹھ سال کے بعد آخری جماعت بنے گی۔اور اس سال تو پھر بھی آٹھ طالب علم داخل ہوئے ہیں، پچھلے سال صرف تین ہوئے تھے۔اور آٹھ کے معنی ہیں چار، کیونکہ کسی سکول میں جتنے لڑ کے شروع میں داخل ہوتے ہوں، ان میں سے نصف کے قریب بالعموم گر جایا کرتے ہیں۔کچھ تو ہمت ہار کر خود ہی پڑھائی چھوڑ دیتے ہیں، کچھ اور ہوتے ہیں، جو پڑھائی کی طرف توجہ نہیں کرتے اور مدرسہ والے ان کو خود نکال دیتے ہیں۔کچھ پڑھائی تو ختم کر لیتے ہیں مگر وہ دینی کام کرنے کی بجائے دنیوی کاموں میں لگ جاتے ہیں۔اس لئے آٹھ کے معنی چار ہی سمجھنے چاہئیں۔تو اب جو آٹھ طالب علم مدرسہ احمدیہ میں داخل ہوئے ہیں، ان میں سے چار ہمیں آٹھ سال کے بعد مل سکیں گے۔حالانکہ ہمیں تمام دنیا میں تبلیغ اور دینی تعلیم و تربیت کے لئے لاکھوں آدمیوں کی ضرورت ہے۔اور اگر مبلغین کی تیاری کی رفتار یہی رہی تو اس کے معنی یہ ہیں کہ دس ہزار سال میں ہمیں کام کرنے والے آدمی پوری تعداد میں مل سکیں گے۔اور وہ بھی اس صورت میں کہ اللہ تعالیٰ یہ 510