تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 509
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 05 جنوری 1945ء واقفین زندگی ہی در اصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عترت ہیں " خطبہ جمعہ فرمودہ 05 جنوری 1945ء۔۔۔۔ہماری جماعت کے سپر د جو کام ہے اس کے متعلق بھی ایک چیز ہے، جو ایسی واضح ہے کہ اس کے بارہ میں کوئی شبہ نہیں۔مگر ابھی تک جماعت میں اس کا احساس پیدا نہیں ہوا۔اور وہ ہے تبلیغی جد و جہد۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے نبی اشاعت قرار دیا ہے۔اسلام کی اشاعت اور اظهار على الادیان کے آپ ہی کے زمانہ میں ہونے کے متعلق پیشگوئیاں ہیں۔پھر آپ کا نام اللہ تعالیٰ نے سلطان القلم رکھا ہے۔گویا کام کی دوہی چیزیں ہیں یعنی دعوۃ اور قلم۔انہی دو سے اسلام کو دوسرے مذاہب پر غلبہ حاصل ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے بیان اور تحریر دونوں چیزیں آپ کو دی ہیں اور ان دونوں سے ہی اسلام دوسرے مذاہب پر غالب ہوگا۔اور اس کا مطلب یہ ہے کہ انہی دو سے آپ کی جماعت نے کام لینا ہے اور انہی ذرائع سے آپ کی جماعت کو ترقی حاصل ہوگی۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی ترقی کے متعلق تحریر فرمایا ہے کہ وو ابھی تیسری صدی آج کے دن سے پوری نہیں ہوگی کہ عیسی کے انتظار کرنے والے، کیا مسلمان اور کیا عیسائی سخت نومید اور بدظن ہو کر اس جھوٹے عقیدہ کو چھوڑیں گے اور دنیا میں ایک ہی مذہب ہوگا اور ایک ہی پیشوا۔میں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں۔سو میرے ہاتھ سے وہ تختم بویا گیا۔اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔( تذكرة الشهادتين صفحه 67) اور یہ بات ظاہر ہے کہ اتنا بڑا کام سوائے اس کے نہیں ہو سکتا کہ وسیع پیمانہ پرتبلیغ کی جائے۔اور پھر یہ بھی ظاہر ہے کہ وسیع پیمانہ پر تبلیغ مبلغوں کے بغیر نہیں ہو سکتی۔اور پھر یہ بھی ظاہر ہے کہ جولوگ نئے جماعت میں شامل ہوں گے ، ان کو دین سکھانے والوں کی بھی ضرورت ہے۔یہ تو ہو نہیں سکتا کہ رات کو فرشتے آسمان سے اتریں اور ان کو دین سکھا جائیں۔یہ کام آدمی ہی کر سکتے ہیں اور آدمیوں نے ہی کرنا ہے۔509