تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 502 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 502

اقتباس از تقریر فرموده 109 اپریل 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم جانیں لی گئیں، ہم سے اگر مال لئے گئے تو اس لئے کہ ہمیں جنت ملے گی۔اور جنت وہ چیز ہے، جس کا ہم میں سے ہر شخص خواہش مند ہے۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ ہم میں سے کوئی ایک شخص بھی ایسا ہو جو کھڑا ہو کر کہے کہ میں یہ خواہش نہیں رکھتا کہ اللہ تعالیٰ مجھے جنت عطا فرمائے۔اگر کوئی شخص ایسا ہوتو وہ کہہ سکتا ہے کہ نہ میں نے جنت کا کبھی مطالبہ کیا، نہ مجھے جنت ملنے کی کوئی امید ہے۔اس لئے میرے لئے جان و مال کو قربان کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اگر اس وقت میں آپ لوگوں سے یہ سوال کروں کہ وہ لوگ کھڑے ہو جائیں، جو یہ کہتے ہیں کہ ہمیں جنت کی کوئی ضرورت نہیں، بے شک مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ ہمیں دوزخ میں ڈال دے۔تو میں سمجھتا ہوں آپ لوگوں میں سے ایک شخص بھی کھڑا نہ ہوگا۔بلکہ ہر شخص یہی کہے گا کہ میں تو چاہتا ہوں اللہ تعالے مجھے جنت عطا کرے۔اور جب آپ لوگ جنت کے طلب گار ہیں اور آپ لوگوں میں سے ایک بھی ایسا نہیں جو یہ کہہ سکے کہ اسے جنت کی ضرورت نہیں تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ آپ لوگوں نے اس سودے کو منظور کر لیا ہے، جس کا قرآن مجید میں ذکر آتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ ایک سودا ہے۔مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ہر شخص کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ چاہے تو اس کو رد کر دے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے کہ ہدایت اور گمراہی کی راہوں کو اختیار کرنا، انسان کی اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق ہوتا ہے۔خدا کسی کو مجبور نہیں کرتا کہ وہ ضرور ہدایت کا راستہ اختیار کرے اور خدا کسی کو مجبور نہیں کرتا کہ وہ ضرور گمراہی کا راستہ اختیار کرے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ مجبور نہیں کرتا کہ لوگ ضرور اپنی جانیں اور اپنے مال قربان کریں۔وہ جنت پیش کر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر تم چاہو، دنیا اپنے پاس رہنے دو اور ہمارے پاس آکر دوزخ قبول کر لو اور اگر چاہو تو اپنی جانیں اور اپنے اموال مجھے دے دو اور میرے پاس آ کر مجھ سے جنت لے لو۔یہ سودا ہے، جو خدا اور اس کے مومن بندوں کے درمیان ہوتا ہے۔جو شخص اس سودے کو قبول کر لیتا ہے، اس کے لئے یہ سوال قطعاً باقی نہیں رہ سکتا کہ اب جان ، اس کی جان ہے یا مال، اس کا مال ہے۔اگر اس اقرار کے با وجود کسی شخص کے دل میں یہ خیال موجود ہو کہ میری جان، میری ہے، میر امال، میرا ہے تو یقینا وہ ایک ایسی بات کا ارتکاب کرنے والا قرار پائے گا، جسے کوئی مجنون ہی اپنے دل اور اپنے دماغ میں لاسکتا ہے۔پھر میں کہتا ہوں احمدیوں کو بھی جانے دو۔غیر احمد یوں، ہندوؤں ،سکھوں ، عیسائیوں ، یہودیوں اور پارسیوں وغیرہ میں سے کسی سے سوال کر کے پوچھو کہ آیا تم یہ پسند کرو گے کہ جنت میں داخل کیے جاؤ اور تمہارا ہر قدم ترقی کے میدان میں بڑھتا چلا جائے اور تم پر متواتر خدا تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوتی رہیں یا تم 502