تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 501 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 501

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از تقریر فرموده 109 اپریل 1944ء وقت آ گیا ہے کہ اپنی ہر چیز خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کر دیں تقریر فرموده 09 اپریل 1944ء بر موقع مجلس شوری ”سب سے پہلے میں دوستوں کو پھر دوبارہ وقف جائیداد کی تحریک کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔کی طرف میں اپنے دو گذشتہ خطبوں میں بھی توجہ دلا چکا ہوں۔جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں، میری تحریک پر خدا تعالیٰ کے فضل سے قادیان کی بہت بڑی اکثریت نے اپنی جائیدادوں کو دین کے لئے وقف کر دیا ہے۔اسی طرح بیرونجات میں سے بھی سینکڑوں کی تعداد ایسے لوگوں کی ہے، جنہوں نے اپنی جائیدادوں اور آمد نیوں کو اس غرض کے لئے وقف کیا ہے۔لیکن لاکھوں کی جماعت میں سے سینکڑوں کا وقف قربانی کا وہ شاندار مظاہرہ نہیں، جس کی جماعت سے توقع کی جاتی تھی۔ابھی علاقوں کے علاقے ، گاؤں کے گاؤں تحصیلوں کی تحصیلیں اور ضلعوں کے ضلعے ایسے ہیں ، جن میں رہنے والے ہزاروں احمدیوں میں سے کسی ایک نے بھی اپنی جائیداد کو وقف نہیں کیا۔یا بڑے بڑے وسیع علاقوں میں سے صرف ایک، دو نے تحریک وقف میں حصہ لیا ہے، باقی لوگوں نے ابھی تک کوئی حصہ نہیں لیا۔اس وقت تمام جماعتوں کے نمائندے یہاں موجود ہیں، اس لئے میں ایک بار پھر جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ ہمارا وعدہ جس کو ہم بار بار اپنی زبان سے دہراتے رہتے ہیں ، یہ ہے کہ ہماری ہر چیز خدا تعالیٰ کے لئے قربان ہے۔ہمیں اپنی جانوں کی پرواہ نہیں، ہمیں اپنے مالوں کی پرواہ نہیں ، ہم مٹ جائیں گے مگر یہ برداشت نہیں کریں گے کہ دین کو کوئی ضعف پہنچے۔یہ وعدہ ہے، جو ہم منہ سے بار ہاد ہراتے رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی اسی وعدہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن مجید میں فرماتا ہے:۔إنَّ اللهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کی جانیں بھی لے لیں اور ان کے مال بھی لے لئے ، اس بات کے بدلہ میں کہ انہیں جنت عطا کی جائے گی۔جب ہماری جانیں اور ہمارے اموال خدا نے ہم سے لے لئے اور ہم نے اس معاہدہ کو قبول کر لیا تو اس کے بعد ہمارا یہ کہنا کہ ہم جان کیوں قربان کریں؟ یا مال کا قلیل حصہ تو قربان کر سکتے ہیں مگر کثیر نہیں قطعی طور پر قرآن کریم کی اس آیت کے خلاف ہے۔کیونکہ ہم سے اگر 501