تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 482
اقتباس از خطبه جمعه فرموده یکم دسمبر 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم ساری کی ساری مبلغوں کی تعداد ڈیڑھ سو کے قریب ہے۔پس جب اس چھوٹے سے ملک نے جس کی و زمین پر دشمن نے حملہ کیا، جس کے جسم پر حملہ کیا تو اس حملہ کے دفاع کے لئے اس ملک نے اپنی قربانیوں کو انتہا تک پہنچادیا۔اور ساڑھے چار کروڑ کی آبادی میں سے پینتالیس لاکھ سپاہی گویا کل آبادی کا دسواں حصہ سپاہی تیار کئے۔اگر ہماری جماعت کو بھی خدا تعالیٰ توفیق دے اور دین کی جنگ کے لئے ہم پینتیس ہزار مبلغ تیار کر لیں تو میں سمجھتا ہوں کہ پانچ دس سال میں ہی ہندوستان کی کایا پلٹ جائے اور پھر لاکھوں ہزاروں کا سوال ہی نہ رہے بلکہ ایک معقول عرصہ میں ہندوستان میں احمدیوں کی اکثریت ہو جائے۔پھر انگلستان پر جو تباہی اور بربادی آئی ہے، اسے پڑھ کر حیرت ہوتی ہے۔یوں معلوم ہوتا ہے، جیسے انگلستان کا کچھ بھی نہیں رہا۔انگلستان میں کل ڈیڑھ کروڑ مکان ہیں۔ان ڈیڑھ کروڑ مکانوں میں ساڑھے چار کروڑ آدمی رہتا ہے۔اس پانچ سال کے عرصہ میں یہ راز انگلستان کی حکومت نے چھپائے رکھا، جسے اب ظاہر کیا گیا ہے کہ پانچ سال کی جنگ میں انگلستان کے مکانوں کا ایک تہائی حصہ جرمنی کی بمباری سے تباہ ہوا یعنی پنتالیس لاکھ مکان برباد ہو گئے ہیں۔پھر ان لوگوں کی مالی قربانیوں کی فہرست ، جو شائع ہوئی ہے، وہ بھی ہمارے لئے قابل غور ہے۔جنگ سے پہلے انگلستان کے سینکڑوں آدمی کروڑ پتی تھے اور کروڑ کروڑ ڈیڑھ ڈیڑھ کروڑ رو پید ان کی سالانہ آمدنی تھی۔اور اب یہ حالت ہے کہ جنگ میں ٹیکسوں کے ادا کرنے کے بعد صرف دو تین درجن آدمی ایسے رہ گئے ہیں، جن کی سالانہ آمدنی پچھتر ہزار روپیہ ہے۔اور اب انہوں نے پچاس فیصدی تک جنگ کے لئے ٹیکس لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔گویا جس کو سور و پیر آمد ہوگی ، وہ پچاس روپیہ جنگ کے لئے ٹیکس ادا کرے گا۔جس کی پچیس روپیہ آمد ہوگی ، وہ ساڑھے بارہ روپے ٹیکس ادا کرے گا۔پس ایسی ہی قربانی ہوا کرتی ہے، جس کے ذریعہ سے کامیابی اور فتح حاصل ہوتی ہے۔ہماری جماعت بھی جب تک اس عظیم الشان کام کے لیے ، جو اس کے سپر د کیا گیا ہے اور اس اعلیٰ درجہ کے مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے ، جو اس کے سامنے ہے، اپنی قربانیوں کو انتہا تک نہ پہنچا دے گی ، اس وقت تک اس کام میں کامیاب ہونا مشکل ہے۔پس جہاں میں دفتر اول کو لمبا کرنے اور دفتر ثانی کوکھولنے کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ پانچ ہزار آدمی اور آگے آئیں اور اپنے اموال اسلام کی خاطر پیش کریں ، وہاں میں جماعتوں کو یہ بھی توجہ دلاتا ہوں کہ ہماری معمولی قربانیوں سے دین کو فتح حاصل نہیں ہو سکتی۔ہمیں ہر قسم کے لوگوں کی ضرورت ہے۔جب تک ہماری جماعت کے نوجوانوں میں بے انتہا جوش نہ ہو کہ وہ آگے بڑھیں اور دین کے لیے اپنے آپ کو 482