تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 475
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده یکم دسمبر 1944ء مرضی ہوگی ، اپنا وعدہ لکھوائے گا اور جس کی مرضی نہیں ہوگی ، وہ نہیں لکھوائے گا۔اور جو اپنا وعدہ نہیں لکھوائے گا، دفتر والے آپ ہی آپ اس کا وعدہ نہیں لکھیں گے۔پس قادیان کی جماعت پر بھی اور باہر کی جماعتوں پر بھی میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ جب تک کوئی شخص گیارہویں سال کے لیے خود اپنا وعدہ نہیں لکھوائے گا، اس وقت تک اس کے نام کوئی رقم نہیں لکھی جائے گی۔دوسری بات جو گزشتہ خطبہ میں بیان کرنے سے رہ گئی تھی ، وہ یہ ہے کہ میں نے وقت نہیں بتایا تھا۔اب میں یہ اعلان کر دیتا ہوں، جیسا کہ گزشتہ سالوں میں قاعدہ رہا ہے، اس سال بھی وعدے بھجوانے کا اصل وقت تو 31 دسمبر تک ہے۔جماعت کے جو دوست پہلے دس سالوں میں حصہ لے چکے ہیں اور آئندہ اپنا حصہ جاری رکھنا چاہتے ہیں، ان کو چاہیے کہ 31 دسمبر تک انفرادی طور پر یا جماعتی رنگ میں اپنے وعدے تحریک جدید میں بھجوادیں۔لیکن چونکہ جلسہ سالانہ پر آنے کی وجہ سے بعض جماعتوں کے وعدوں کی فہرستیں جلدی مکمل نہیں ہو سکتیں اور بعض علاقے ذرا دور کے بھی ہیں۔اس لیے اجازت ہوگی کہ سات فروری 1945ء تک جو وعدے قادیان پہنچ جائیں گے یا اس تاریخ تک اپنے شہر سے روانہ ہو جائیں گے، ان کو رجسٹر میں درج کر لیا جائے گا۔گو بہتر یہی ہوگا کہ 31 دسمبر تک وعدے آجائیں۔لیکن ہندوستان کے وہ علاقے ، جہاں اردو بھی جاتی ہے، ان علاقوں کی جماعتوں یا افراد کو سات فروری تک وعدے بھجوانے کی مہلت ہوگی۔سیات ضروری آخری میعاد ہے، اس کے بعد کوئی وعدہ ہندوستان کی ان جماعتوں کی طرف سے، جہاں اردو سمجھی جاتی ہے، قبول نہیں کیا جائے گا۔ہر سال یہ اعلان کیا جاتا ہے اور ہر سال ہی میں نے یہ دیکھا ہے کہ سات فروری کے بعد بعض درخواستیں آجاتی ہیں کہ ہم میعاد کے اندر وعدہ بھجوانے سے رہ گئے تھے، ہمیں بھی شامل کر لیا جائے اور ہر سال ہی سوائے کسی استثنائی صورت کے ہمیں ایسے وعدوں کو رد کرنا پڑتا ہے۔کیونکہ جہاں چندہ لینے سے ہماری یہ غرض ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں دوست اپنے اموال خرچ کریں اور اس سے اسلام کی تائید ہو، وہاں ساتھ ہی ساتھ ہماری یہ بھی خواہش ہے کہ جماعت کو تربیت کی صحیح لائن پر لایا جائے اور جماعت کے اندر یہ احساس پیدا کیا جائے کہ جب کوئی وقت مقرر کیا جائے تو اس وقت کے اندر اندر وہ اپنی قربانی پیش کرے۔پس اگر وقت کے بعد آنے والے وعدوں کو ہم رد کر دیتے ہیں تو وعدہ کرنے والوں کو جود کھ اس سے پہنچتا ہے ، اس کی ذمہ داری ہم پر نہیں بلکہ ان پر ہے۔اگر وقت کے بعد آنے والے وعدوں کو ہم بلا وجہ قبول کر لیں تو اس کے یہ معنی ہیں کہ ہم اور لوگوں کو بھی سنتی کی تحریک کرتے ہیں۔۔475