تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 474 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 474

اقتباس از خطبه جمعه فرموده یکم دسمبر 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم حساب سے تراجم شائع کیے جائیں گے، جو پہلے بتایا گیا ہے اور اگر وصولی بڑھ گئی تو پھر جتنی وصولی بڑھ جائے گی ، اس حساب سے اتنے ہی اور کتابوں کے تراجم بڑھا دئیے جائیں گے۔دوسری تحریک میں نے گیارہویں سال کے لیے تحریک جدید کے متعلق کی تھی۔گزشتہ جمعہ کے خطبہ میں ، میں نے اس کا اعلان کیا تھا اور اس وقت تک اس تحریک میں گیارہ ہزار روپیہ کے وعدے آچکے ہیں۔جس بنیاد پر اس کا اعلان کیا گیا تھا، اس کے لحاظ سے گیارہویں سال کے کم از کم ایک لاکھ نوے ہزار کے وعدے آنے چاہیں۔اس بارے میں بعض باتیں گزشتہ خطبہ جمعہ میں بیان کرنے سے رہ گئی تھیں۔وہ باتیں اس خطبہ میں بیان کر دیتا ہوں۔ایک بات تو یہ ہے کہ بعض دوست اس غلطی میں پڑے ہیں یا ان کو یہ غلطی لگ سکتی ہے کہ چونکہ یہ اعلان کر دیا گیا ہے کہ گیارہویں سال کے وعدے کم از کم نویں سال کی رقم کے برابر ہوں۔گوجن کو خدا تعالیٰ توفیق دے وہ زیادہ بھی دے سکتے ہیں۔وہ جتنا زیادہ دیں گے، اتنا ہی ان کے لیے زیادہ برکت کا موجب ہوگا۔مگر گیارہویں سال کا وعدہ کم از کم نویں سال کے وعدہ کے برابر ہونا چاہیے۔اس سے بعض دوستوں کو یہ دھو کہ لگا ہے کہ گویا ہم نے حکماً گیارہویں سال کے لیے وہ رقم مقرر کر دی ہے، جو انہوں نے نویں سال میں دی تھی اور اب ان کو گیارہویں سال کا وعدہ لکھوانے کی ضرورت نہیں۔آپ ہی آپ دفتر والے سال نہم کے مطابق ان کا وعدہ لکھ لیں گے۔لیکن یہ بات غلط ہے۔تحریک جدید کی بنیاد شروع سے ہی طوعی چندوں پر رکھی گئی ہے۔ہم اس میں کوئی چندہ حکماً مقرر نہیں کرتے۔اور جیسا کہ میں نے تحریک جدید کو جماعت کے سامنے پیش کرتے وقت بیان کیا تھا، اس کی وجہ یہ ہے کہ حکما قربانی کرنے میں گو ثواب تو مل جاتا ہے لیکن اس قدر نفس کی صفائی نہیں ہوتی ، جس قدر انسان کو اس کے نتیجہ میں نفس کی صفائی حاصل ہوتی ہے کہ اپنی مرضی سے اپنے ذمہ کوئی رقم مقرر کر لیے۔اس لیے میں یہ اعلان کر دینا چاہتا ہوں اور جماعت پر واضح کر دیتا ہوں کہ کسی کے ذمہ خود بخود کوئی رقم مقرر نہیں کی جائے گی۔جو نہیں لکھوائیں گے ، ان کے متعلق یہی سمجھا جائے گا کہ وہ نہیں لکھوانا چاہتے۔یہ نہیں ہوگا کہ دفتر والے آپ ہی آپ نویں سال کے مطابق وعدہ لکھ لیں۔بے شک ایک رنگ اخلاص کا یہ ا ہے کہ دوست یہ کہیں کہ جب ہماری جان اور ہمارا مال سب کچھ خدا کی راہ میں اسلام کی خاطر وقف ہے تو جور تم بھی ہمارے ذمہ مقرر کی جائے گی، ہم اس کو ادا کر دیں گے۔مگر اس سے وہ غرض فوت ہو جاتی ہے، جو تحریک جدید میں رکھی گئی ہے۔یہ تحریک شروع سے آخر تک طوعی رہی ہے اور طوعی رہے گی۔جس کی 474