تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 429
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم خطبہ جمعہ فرموده 10 نومبر 1944ء دوسرے وہ لوگ ہوتے ہیں، جن کا پیشہ سپاہ گری ہوتا ہے اور وہ فوج میں بھرتی ہو کر اپنی جنگی سپرٹ کو قائم رکھنا چاہتے ہیں۔گو ان لوگوں کے دلوں میں بھی حب الوطنی کا جذبہ موجود ہوتا ہے مگر بہر حال فوج میں شامل ہونے سے ان کی اصل غرض اپنی فوجی روح اور جنگی سپرٹ قائم رکھنا ہوتی ہے۔تیسرے وہ لوگ ہوتے ہیں، جو کسی بلند مقصد کے لئے فوج میں بھرتی ہوتے ہیں۔جیسے ہماری جماعت کے افراد، جو فوج میں بھرتی ہوئے ، انہوں نے میری ہدایات اور میرے احکام کے مطابق اپنے آپ کو بھرتی کے لئے پیش کیا۔بلکہ ہماری جماعت میں بعض ایسے لوگ بھی ہیں، جو اپنی معقول ملازمتیں ترک کر کے محض میرے حکم کی اطاعت کے لئے فوج میں بھرتی ہو گئے تا کہ وہ اس جنگ میں حصہ لے سکیں، جس کے متعلق میں نے انہیں یہ کہا تھا کہ یہ ملک کی خدمت اور دنیا سے ظلم اور تعدی کو مٹانے کا ذریعہ ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ ہماری جماعت میں سے جس قدر لوگ فوج میں بھرتی ہوئے ہیں، وہ سب کے ، بلا استثناء اسی مقصد کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے فوج میں بھرتی ہوئے ہیں۔ممکن ہے بعض احمدی بھی روپیہ کمانے کے لئے فوج میں بھرتی ہوئے ہوں۔اسی طرح ممکن ہے بعض احمدی بھی جنگی روح اور اپنی خاندانی روایات کو قائم رکھنے کے لئے فوج میں شامل ہوئے ہوں۔لیکن بہر حال ہماری جماعت کے وہ دوست ، جو محض میرے حکم کی تعمیل کے لئے اس جنگ میں شامل ہوئے ہیں، جو اس لئے فوج میں بھرتی نہیں ہوئے کہ دنیا کمائیں یا اپنی جنگی سپرٹ کو قائم رکھیں بلکہ اس لئے گئے ہیں کہ یہ جنگ دنیا سے ظلم مٹانے کے لئے لڑی جارہی ہے اور مومن کا کام ہے کہ وہ جو ر اور ظلم کو مٹائے اور اپنے ملک کی خدمت کرے وہ یقیناً دنیا کمانے کے لئے نہیں گئے بلکہ ثواب کمانے کے لئے گئے ہیں اور ایسے آدمی اگر اس جنگ میں مارے جائیں گے تو وہ یقیناً جیسا کہ گذشتہ دنوں الفضل میں ایک بحث چھپی تھی ، ایک رنگ کے شہید قرار پائیں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے شہادت کا دائرہ محدود نہیں رکھا بلکہ اس کے دائرہ کو آپ نے بہت وسیع قرار دیا ہے۔ایک شہادت وہ ہوتی ہے، جو خالص دینی جنگ میں شامل ہونے پر انسان کو حاصل ہوتی ہے۔جب اسلام پر اس کو مٹانے کے لئے دشمن کی طرف سے حملہ ہو تو اس وقت خطرات بہت زیادہ ہوتے ہیں اور اس وقت جان جانے کا بہت زیادہ امکان ہوتا ہے، اس لئے جو شخص اس قسم کی مذہبی جنگ میں شامل ہوتا اور اپنی جان اسلام کے لئے قربان کر دیتا ہے، رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اسے شہید قرار دیا ہے۔لیکن شہادت صرف یہی نہیں بلکہ اور بھی کئی قسم کی شہادتیں ہیں، جنہیں اسلام نے تسلیم کیا 429