تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 428 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 428

خطبہ جمعہ فرموده 10 نومبر 1944ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد دوم ان افراد کی طرف سے خطوط آئے ہیں، جنہوں نے ایک ایک ترجمہ کا پورا خرچ چندہ کے طور پر پیش کیا تھا مگر ان کا وعدہ اس لئے قبول نہ کیا گیا کہ اس وقت تک بعض اور دوست مطلوبہ رقم کو پورا کر چکے تھے یا جو اس طرح حصہ لینا چاہتے تھے مگر اطلاع دینے سے پہلے ہی حصے ختم ہو گئے یا ان لوگوں کی طرف سے خطوط آئے ہیں، جو سپاہی وغیرہ ہیں اور فوج میں بھرتی ہو چکے ہیں اور یا پھر ان افراد کی طرف سے خطوط پہنچے ہیں، جو جماعتوں میں شامل نہیں، انفرادی طور پر الگ الگ مرکز میں اپنا چندہ بھجواتے ہیں۔ممکن ہے وہ جماعتیں، جن کو اس تحریک میں ابھی تک شامل نہیں کیا گیا، وہ بھی موقعہ پر احتجاج کرتیں۔جیسے سیالکوٹ ہے، سرگودھا ہے، لائل پور ہے، ہنگری ہے، گجرات ہے، جہلم ہے، جالندھر ہے، ہوشیار پور ہے۔مگر ابھی تک ان کی طرف سے مجھے اس قسم کے کوئی خطوط موصول نہیں ہوئے۔صرف تین گروہ ہیں ، جن کی طرف سے مجھے اعتراضات پہنچے ہیں۔اول وہ، جنہوں نے پورے ترجمہ کا خرچ برداشت کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر اس وجہ سے کہ اس وقت تک تمام تراجم کے حصے پورے ہو چکے تھے، ان کا وعدہ قبول نہ کیا گیا۔ان کا یہ اعتراض ہے کہ جماعت میں سے ترجمة القرآن کے سلسلہ میں بعض کو چندہ دینے کا دہرا حق دے دیا گیا ہے اور پھر بعض صورتوں میں یہ دہر ا حق ان کو دیا گیا ہے، جنہوں نے اس حق کو مانگا نہیں تھا۔وہ کہتے ہیں کہ اول تو اگر کوئی مانگے بھی تو اسے دہر احق نہیں ملنا چاہئے لیکن بغیر مانگنے اور بغیر تقاضا کرنے کے تو کسی کو اس کے حق سے زائد کوئی چیز دے دینا بالخصوص ایسی صورت میں جب کہ بعض اور لوگوں کے حقوق پر اس کا اثر پڑتا ہو، درست نہیں ہوسکتا۔اور میں نے جیسا کہ بیان کیا ہے میرے نزدیک ان کا یہ اعتراض معقول ہے۔دوسرے وہ ہیں، جو براہ راست چندہ بھیجا کرتے ہیں۔انہوں نے یہ اعتراض اٹھایا ہے کہ ہمارے لئے اس تحریک میں شامل ہونے کا کوئی حق نہیں رکھا گیا۔تیسرے وہ ، جو میدان جنگ میں گئے ہوئے ہیں یا فوج میں مختلف عہدوں پر کام کر رہے ہیں۔ان کی طرف سے یہ شکایت پہنچی ہے کہ جب ہم آپ کے حکم کے مطابق فوج میں بھرتی ہوئے ہیں تو ہمارا بھی اس تحریک میں حصہ ہونا چاہئے۔در حقیقت ہندوستان میں تین قسم کے سپاہی کام کر رہے ہیں۔ایک وہ، جو محض تنخواہ اور روپیہ کے لئے فوج میں بھرتی ہوئے ہیں۔ان کا مقصد صرف دنیا کمانا ہوتا ہے، کوئی اور مقصد ان کے سامنے نہیں ہوتا۔428