تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 399 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 399

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 20 اکتوبر 1944ء طور پر تبلیغ کر سکتا ہے اور یہ طریقہ ایسا ہے، جس کے ذریعہ سے دو تین یا چار مبلغ پانچ کروڑ کی آبادی کے ملک میں سال بھر میں کئی لاکھ آدمیوں کو کامیاب طور پر تبلیغ کر سکتے ہیں۔گو پوری تبلیغ پھر بھی نہیں کہلا سکے گی کیونکہ اتنی آبادی والے ملک کے لئے تو تین چار سو مبلغ کی ضرورت ہے۔مگر بہر حال اس طریق سے ایسی تبلیغ ہو سکے گی، جسے نظر انداز نہ کیا جاسکے اور جو با اثر ہو۔تین چار کروڑ کی آبادی والے ملک میں ہمارے مبلغ ایک سال میں چار پانچ لاکھ آدمیوں تک لٹریچر پہنچاسکیں گے اور ہزاروں کے پاس فروخت کر سکیں گے اور اس طریق سے ہماری تبلیغ اس ملک میں پھیل جائے گی۔پس اگر ہم تبلیغ کرنا چاہتے ہیں اور اس کا اچھا نتیجہ دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم ایسے سامان پیدا کریں کہ جہاں ہمارے مبلغ جائیں، ان کے پاس اس ملک کی مروجہ زبان میں ایسا لٹریچر ہو، جس کے ذریعہ اس ملک کے تعلیم یافتہ لوگوں اور عوام کے اندر ہیجان پیدا کیا جاسکے۔اس غرض کو پورا کرنے کے لئے سب سے پہلے قرآن مجید کے ترجمہ کی ضرورت ہے۔کیونکہ یہ جامع کتاب ہے، جس میں تمام علوم اور سارے مضامین جمع ہیں۔باقی کتابوں میں ایک ایک مضمون ہوتا ہے مگر یہ تمام مضامین کا مجموعہ ہے۔پھر دوسری کتابوں کی طرف توجہ دلانے کے لئے ہمیں زور لگانے کی ضرورت ہوتی ہے مگر قرآن مجید اپنا زور آپ لگاتا ہے۔ہر ملک کی زبان میں اگر اس کا ترجمہ کر دیا جائے تو جس زبان میں بھی اس کا ترجمہ ہو گا۔اس زبان کے جاننے والے لوگ بڑے شوق سے اسے لیں گے اور پڑھیں گے۔دوسری کتابوں کے لئے ہمیں پرو پیگنڈا کرنا پڑتا ہے مگر قرآن مجید کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ اس کا پرو پیگنڈا ہو چکا ہے اور تیرہ سو سال سے ہوتا چلا آرہا ہے، اس لئے بڑی سہولت کے ساتھ یہ تمام دنیا میں پھیل سکتا ہے۔پس سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ قرآن مجید کا ترجمہ آٹھ زبانوں میں کر دیا جائے۔عربی میں تو وہ پہلے ہی ہے، باقی آٹھ زبانوں میں اس کا ترجمہ ہونا ضروری ہے۔انگریزی، روسی، جرمن، فرانسیسی ، اطالین ، ڈچ، سپینش اور پرتگیزی۔ان آٹھ زبانوں میں اگر قرآن مجید کا ترجمہ ہو جائے تو دنیا کے ہر گوشہ میں قرآن مجید پہنچ سکتا ہے اور ساری دنیا میں تبلیغ ہوسکتی ہے۔سوائے چین اور جاپان کے مگر یہ دنوں محدودز با نیں ہیں۔چین میں چونکہ آٹھ کروڑ مسلمانوں کی آبادی ہے، اس لئے وہاں عربی کام دے سکتی ہے۔البتہ جاپان ایسا ملک ہے، جو باہر رہ جائے گا مگر وہ دنیا کا ہزارواں حصہ ہے۔فی الحال اگر اس کو نظر انداز بھی کر دیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔فوری طور پر ان آٹھ زبانوں میں تراجم شائع کرنی کی ضرورت 399