تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 341
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از ملفوظات فرموده 30 اپریل 1944ء واقف زندگی کا کوئی اپنا کام کرنا ملفوظات فرمودہ 30اپریل1944ء کسی نے سوال کیا ہے کہ واقف زندگی اپنا کام کرسکتا ہے یا نہیں؟ یہ سوال مکمل نہیں ، اس لیے اسے پورے طور پر سمجھ نہیں سکا۔اگر کوئی واقف زندگی ایسا ہے، جسے سلسلہ نے اپنے کام کے لیے لے لیا ہے تو وہ بہر حال سلسلہ کا ہی کام کرے گا اور اگر اس کے پاس کوئی زائد وقت بچ گیا ہو تو اس صورت میں بھی اگر سلسلہ اسے کوئی کام کرنے کی اجازت دے گا تو وہ کر سکتا ہے ورنہ نہیں۔اور اگر اس سے مراد کوئی ایسا وقف زندگی ہے، جس نے اپنا نام تو دے دیا مگر سلسلہ نے اسے قبول نہیں کیا تو ایسا آدمی فارغ ہے۔بجائے اس کے کہ وہ اپنے اوقات کو ضائع کرے، اس کے لیے یہ سینکڑوں گنا زیادہ بہتر ہے کہ وہ اپنے گزارہ یا اپنے رشتہ داروں کے گزارہ کے لیے کوئی کام کرے۔پس سوال چونکہ واضح نہیں، اس لیے میں نے دونوں پہلو واضح کر دیئے ہیں۔اگر سلسلہ نے اسے لے لیا ہے تو وہ سلسلہ کی اجازت سے کام کر سکتا ہے بغیر اجازت نہیں۔اگر سلسلہ سمجھے گا کہ اسے کام کرنے کی اجازت دینے میں کوئی حرج نہیں تو وہ اجازت دے گا اور اگر سلسلہ نے اسے قبول نہیں کیا تو یقیناً وہ کام کرنے کا مجاز ہے بلکہ اس کا کام کرنا اس کے لیے زیادہ بہتر ہے۔سوال کیا گیا ہے کہ واقف، جو کمائی کرے گاوہ اس کی اپنی ہوگی یا سلسلہ کی ہوگی ؟ یہ سوال بھی پہلے سوال سے ہی تعلق رکھتا ہے۔اگر سلسلہ نے اسے قبول کر لیا ہے اور اگر سلسلہ نے اسے اپنا کام کرنے کی اجازت دی ہوئی ہے تو اس کی کمائی یقینا اس کی اپنی ہوگی اور اگر سلسلہ نے اسے قبول تو کر لیا ہے مگر سلسلہ نے اسے کسی اپنے کام پر مقرر کیا ہے تو اس کی کمائی سلسلہ کی ہوگی اور اگر سلسلہ نے اسے قبول ہی نہیں کیا تو چونکہ اسے قبول نہیں کیا گیا، اس لئے اس کی کمائی کے متعلق کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔تیسرا سوال یہ کیا گیا ہے کہ اگر کوئی واقف زندگی آمدنی اپنی مرضی سے خرچ کر سکتا ہے تو پھر وقف زندگی کے کیا معنی ہوئے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر سلسلہ نے اس کو نہیں لیا تو اس کا وقف صرف ایک وعدہ ہے اور اس صورت میں اس کی آمدنی، جو کچھ بھی ہے، اس کی اپنی ہے۔اور اگر سلسلہ اسے قبول کر لیتا ہے مگر کام کرنے 341