تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 326

اقتباس از خطبہ نکاح فرموده 10 اپریل 1944ء تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔۔جلد دوم وابستہ ہے۔اس لئے قدرتی طور پر لوگوں میں اس قسم کے آدمی تحقیر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں اور لوگ ہے خیال کرتے ہیں کہ ایسے آدمیوں کو اپنی بیٹیاں دینا ، ان کی زندگیوں کو خراب کرنا ہے۔وو چنانچہ جب بھی رشتہ کا سوال آتا ہے، انہیں رشتہ دینا، ان کی طبائع پر سخت گراں گزرتا ہے۔اسی طرح وہ جب کبھی ایسی مجلس میں جاتے ہیں، جہاں بڑے آدمی بیٹھے ہوں تو اول تو وہ ان کی طرف رغبت ہی نہیں کرتے اور اگر کریں تو ان کی رغبت ایسی ہی ہوتی ہے جیسے انگریز مرد اور عورت اپنے کتے سے رغبت کا اظہار کرتے ہیں۔اور پھر جو لوگ ان کا بظاہر ادب اور لحاظ کرتے ہیں، ان کے طریق عمل سے بھی یہ بات صاف طور پر ظاہر ہوتی ہے کہ وہ تذلیل اختیار کر کے یا صدقہ اور خیرات کے طور پر یا پبلک سے ڈرکران کی طرف توجہ کرتے ہیں ورنہ ان کے دلوں میں ان کا احترام نہیں ہوتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یا اس سے پہلے زمانوں میں یہ بات کم تھی کیونکہ اس وقت دولت کی اتنی قدر نہ تھی جتنی آج کل ہے۔آج کل تمام باتوں میں اہمیت دولت کو ہی حاصل ہے۔پہلے زمانوں میں بھی تھی لیکن ایک حد تک“۔دنیا میں رواج یہی ہے کہ روپیہ کی عزت کی جاتی ہے۔علم کی عزت نہیں کی جاتی ، دین کی عزت نہیں کی جاتی ، شرافت کی عزت نہیں کی جاتی ، تقویٰ اور طہارت کی عزت نہیں کی جاتی۔سوائے اس تقویٰ اور طہارت کے جہاں حان ان تعان وتعرف بين الناس کا حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے صادر ہو جاتا ہے مگر وہ عزت بھی لوگ فرشتوں کی مارکھا کر کرتے ہیں، اپنے طور پر نہیں کرتے۔میں دیکھتا ہوں کہ یہ مرض ہماری جماعت میں بھی پایا جاتا ہے۔جب کبھی وقف زندگی کی تحریک کی جائے اور نو جوانوں سے کہا جائے کہ وہ اپنے آپ کو خدمت دین کے لئے وقف کریں تو اول تو کھاتے پیتے لوگوں کی اولاد وقف زندگی کی طرف آتی ہی نہیں اور پھر جو لوگ آتے ہیں امراء ان کی طرف تحقیر کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان سے بات کرنا یا ان کے ساتھ چلنا پھرنا ، ہماری طرف سے ایک قسم کا تذلیل ہے ورنہ خود یہ اس بات کے مستحق نہیں ہیں۔اسی طرح ان کی شادیوں اور بیاہوں میں بڑی وقتیں پیش آتی ہیں اور میرے نزدیک یہ امر بہت بڑے قومی تنزل کی ایک علامت ہے۔اگر واقع میں یہ درست ہے کہ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَيكُمُ تو خدا تعالیٰ کے حضور جس کو عزت حاصل ہو، ہمیں اسی کو عزت دینی چاہئے۔یا تو ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ جو شخص بڑا دیندار ہو، وہ خدا کے حضور معزز ہوتا ہے اور اگر یہ بات درست نہیں تو پھر اللہ تعالیٰ 326