تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 325 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 325

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد دوم وو اقتباس از خطبہ نکاح فرموده 10 اپریل 1944ء احباب جماعت اور واقفین زندگی کو ایک اہم نصیحت خطبہ نکاح فرمودہ 10 اپریل 1944ء اس نکاح کی نسبت جس کے اعلان کے لئے میں کھڑا ہوا ہوں ، دوضروری باتیں میں اس وقت کہنا چاہتا ہوں۔ایک تو جماعت کے لحاظ سے اور ایک ان لوگوں کے لحاظ سے جن کی وجہ سے مجھے اس بات کے کہنے کی ضرورت پیش آئی۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ حکما فرما تا ہے کہ وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةً يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ تم میں سے ایک جماعت حتمی طور پر ایسی ہونی چاہئے کہ وہ دعوت الی الخیر کرتی رہے۔یہ جماعت جو کلی طور پر اپنے آپ کو دعوت الی الخیر کے ساتھ وابستہ کر دے گی۔یہ لازمی بات ہے کہ وہ اس قسم کے دنیوی فوائد حاصل نہیں کر سکے گی ، جس قسم کے دنیوی فوائد دوسرے لوگ حاصل کرتے ہیں۔یا اس قسم کی تعلیم حاصل نہیں کر سکتی ، جس قسم کی تعلیم آج کل دولت لایا کرتی ہے۔وہ دین کی ت خاطر اپنے آپ کو وقف کرنے کے لئے اور دینی خدمات کرنے کے لئے لازماً ان ذرائع کو اپنے ہاتھ سے کھو بیٹھیں گے جو دولت لاتے ہیں یا آج کل کے معیار کے لحاظ سے عزت لاتے ہیں۔کیونکہ آج کل ساری عزت، دولت سے وابستہ ہے اور جب وہ اس معیار کو کھو بیٹھیں گے، جس کے ذریعہ دولت کمائی جاتی ہے تو اس کے دوسرے معنے یہ ہوں گے کہ وہ دولتمند نہیں ہوں گے کیونکہ وہ اپنی زندگی دین کے لئے وقف کر چکے ہوں گے۔بلکہ اگر انہیں وہ ذرائع معلوم بھی ہوتے ، جن سے دولت کمائی جاسکتی ہے، تب بھی وہ دولت کما نہ سکتے۔الا ماشاء اللہ۔کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةً يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ تم میں ہمیشہ ایک جماعت ایسی موجود ہونی چاہیے جو دعوت الی الخیر کا کام کرتی رہے۔تو یہ لازمی بات ہے کہ ایسا کام کرنے والی جماعت دولت نہیں کما سکے گی۔الامن يفتح الله له ابواب رحمته بيده الكريمة۔کیونکہ ان کے پاس وقت ہی نہیں ہوگا یا دوسروں کے مقابلہ میں نہایت قلیل اور تھوڑا وقت ہوگا تو چونکہ اس زمانہ میں ساری عزت، ساری ترقی اور سارا وقار دولت کے ساتھ 325