تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 309
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 31 مارچ 1944ء آخر ملازموں سے تنگ آکر بعض واقفین زندگی کو وہاں بھیجوا دیا مگران کی حالت بھی ایسی اچھی نہ تھی بلکہ ایک کے متعلق تو ایسی شکائتیں آرہی ہیں کہ شاید مجھے اس کے متعلق کوئی کمیشن بٹھانا پڑے اور سخت ایکشن لینا پڑے کیونکہ شکایت ہے کہ اس نے علاوہ ستی اور ظلم کے بددیانتی سے بھی کام لیا ہے۔پس ہمیں روپیہ کی ہی ضرورت نہیں بلکہ آدمیوں کی بھی ضرورت ہے۔دنیا میں کوئی ترقی آدمیوں کے بغیر نہیں ہو سکتی۔میں نے تحریک جدید کے شروع میں ہی ایک خطبہ پڑھا تھا۔وہ خطبہ چھپا ہوا موجود ہے اور اسے نکال کر دیکھا جا سکتا ہے۔میں نے اس میں کہا تھا کہ دنیا میں روپیہ کے ذریعہ بھی تبلیغ نہیں ہوئی اور جو قوم یہ بجھتی ہے کہ روپیہ کے ذریعہ اکناف عالم تک اپنی تبلیغ کو پہنچا دے گی ، اس سے زیادہ فریب خوردہ ، اس سے زیادہ احمق اور اس سے زیادہ دیوانی قوم دنیا میں اور کوئی نہیں۔جس چیز کے ساتھ مذہبی جماعتیں دنیا میں ترقی کیا کرتی ہیں، وہ ذات کی قربانی ہوتی ہے، نہ کہ روپیہ کی۔تم اگر دنیا میں فتحیاب ہونا چاہتے ہو تو جان دے کر ہو گے۔جس دن تم یہ سمجھ لو گے کہ تمہاری زندگیاں تمہاری نہیں بلکہ اسلام کے لئے ہیں، جس دن سے تم نے محض دل میں ہی یہ نہ سمجھ لیا بلکہ عملاً اس کے مطابق کام بھی شروع کر دیا، اس دن تم کہہ سکتے ہو کہ تم زندہ جماعت ہو۔(الفضل 24 جنوری 1935ء) پس اس تحریک کے ابتداء میں ہی میں نے اس کی بنیاد چندہ پر نہیں رکھی بلکہ میں نے اس کی بنیاد آدمیوں پر رکھی تھی اور میں نے کہا تھا کہ مجھے وہ آدمی چاہئیں، جو اپنے دلوں میں اخلاص رکھتے ہوں ، جو اپنی جانیں خلیفہ وقت کے حکم پر قربان کرنے کے لئے تیار ہوں، جو رات اور دن کام کرنے والے ہوں اور جو مجھتے ہوں کہ ہم نے جب اپنے آپ کو پیش کر دیا تو اس کے بعد موت ہی ہمیں اس کام سے الگ کر سکتی ہے۔زندگی کے آخری لمحوں تک ہم یہی کام کریں گے اور پورے اخلاص اور پوری ہمت اور پوری دیانت سے کریں گے۔جو شخص سمجھتا ہے کہ مجھے جب تبلیغ کے لئے باہر بھجوایا جائے گا، اس وقت میں دیانتداری سے کام لے لوں گا۔اس سے پہلے اگر سلسلہ کے کسی اور کام پر مجھے مقرر کیا جاتا ہے تو میرے لئے دیانتداری کی ضرورت نہیں۔وہ اول درجہ کا احمق اور نادان ہے اور یا پھر دوسروں کو دھوکا اور فریب دینے کے لئے ایسا کہتا ہے۔جو شخص سمجھتا ہے کہ صرف تبلیغ میں دیانتداری کی ضرورت ہے لیکن سلسلہ کے اموال میں وہ دیانتداری سے کام نہیں لیتا، سلسلہ کی زمینوں پر وہ محنت سے کام نہیں کرتا ، سلسلہ کی مالی ترقی کے لئے اپنے آرام و آسائش کو قربان نہیں کرتا، وہ سجھتا ہی نہیں کہ دین کیا چیز ہے؟ وہ یقینا فریب خوردہ ہے یا دوسروں کو فریب دینے کی کوشش کرتا ہے۔309