تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 268
خطبہ جمعہ فرموده 26 نومبر 1943ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم کہ اب جبکہ یہ تحریک اپنے پہلے دور میں ختم ہونے والی ہے، وہ ہماری ان کو تا ہیوں کو معاف فرما دے، جو اس تحریک کے دوران میں ہم سے سرزد ہوتی ہیں۔حضرت عمر سے ان کی وفات کے وقت کسی شخص نے کہا کہ آپ کو تو بہت بڑے بڑے اجر ملیں گے کیونکہ آپ نے اسلام کے لئے بڑی بھاری قربانیاں کی ہیں۔اس وقت حضرت عمرؓ نے کہا " اللَّهُم لَا عَلَى وَلَا لِی“۔اے میرے خدا میں اپنے اعمال کی کمزوریوں کی بنا پر تجھ سے کسی ثواب کا طلب گار نہیں۔میں تجھ سے صرف یہ التجا کرتا ہوں کہ تو میری کوتاہیوں کو معاف کر کے مجھے اپنی سزاؤں سے بچالے۔اللہ تعالیٰ کے جو احسانات ہم پر ہیں، اس کے جو بے انتہا فضل ہم پر ہیں، ان کو دیکھتے ہوئے ، ان کی قدر کرنے کا دعویٰ ہم نہیں کر سکتے۔در حقیقت ہم میں سے بہتوں نے ابھی تک تحریک احمدیت کو سمجھا ہی نہیں، جو خدا کی طرف سے دنیا کی کایا پلٹنے کے لئے جاری کئی گئی ہے۔ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں، جو ا بھی نام کے احمدی ہیں۔احمدیت کی روح کو انہوں نے نہیں سمجھا۔بہت سے ایسے ہیں ، جو اخلاص تو رکھتے ہیں مگر ان کے دلوں میں یہ تڑپ نہیں کہ وہ باریکیوں کو سوچتے رہیں اور احمدیت کی طرف سے جوان پر ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں، انہیں ادا کریں۔بہت ایسے ہیں، جو اخلاص بھی رکھتے ہیں ، سوچتے بھی ہیں مگر ان کے دماغوں کی قابلیت ایسی نہیں کہ وہ اس کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔بہت ایسے ہیں، جن کے دلوں میں اخلاص بھی ہے غور اور فکر کا مادہ بھی اپنے اندر رکھتے ہیں ، ان کے دماغ بھی اچھے ہیں سوچنے اور غورو فکر سے بھی کام لیتے ہیں اور پھر سوچنے اور غور فکر سے کام لینے کے بعد ذمہ داریوں کو سمجھتے بھی ہیں مگر پھر بھی ان ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی پوری طاقت نہیں رکھتے۔پھر بہت سے ایسے ہیں، جن کو خدا تعالیٰ نے اخلاص بھی عطا فرمایا ہے، جو سوچنے کی توفیق بھی رکھتے ہیں، جن کے دماغوں میں سمجھنے کا مادہ بھی پایا جاتا ہے، جو اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی توفیق بھی رکھتے ہیں اور جو ہر وقت اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لئے مستعد اور تیار کھڑے رہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی ان پر برکتیں ہیں، برکتیں رہیں گی ، اس جہان میں بھی اور اگلے جہان میں بھی۔اس دنیا میں بھی خدا ان کے ساتھ ہو گا اور اگلے جہان میں بھی۔یہی وہ لوگ ہیں، جو جماعت احمد یہ کیلئے ستون کا کام دے رہے ہیں، یہی وہ دیواریں ہیں، جن پر وہ چھت قائم ہے، جسے حضرت مسیح موعود کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کے امن کے لئے قائم فرمایا ہے اور میں سمجھتا ہوں وہ لوگ جنہوں نے دیانتداری اور پورے تقویٰ کے ساتھ اس تحریک میں حصہ لیا ہے، ان میں سے اکثر ایسے ہی لوگ ہیں اور وہ خدا کے حضور انہیں لوگوں میں شامل کئے جائیں گے۔268