تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 267

خطبہ جمعہ فرمود 26 نومبر 1943ء تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد دوم خدمت کے لئے جماعت میں سے پانچ ہزار نفوس کھڑا کر دیتا ؟ اگر ہمیں دس ہزار آدمی چندہ دیتے تو ہم نے ان کے چندوں کو اس بنا پر ر نہیں کر دینا تھا کہ پیشگوئی میں صرف پانچ ہزار آدمیوں کا ذکر آتا ہے اور اگر میری اس تحریک کے نتیجہ میں جماعت کے دلوں میں ایسا جوش اور اخلاص پیدا نہ ہوتا کہ پانچ ہزار آدمی چندہ دینے کیلئے کھڑے ہو جاتے بلکہ صرف دو یا تین ہزار آدمی اس تحریک میں حصہ لیتے تو ہمارے پاس اس تعداد کو پانچ ہزار تک پہنچانے کا کیا ذریعہ تھا ؟ ہم نے یہ تحریک طوعی رنگ میں کی تھی اور اس میں شامل ہونا ہر شخص کی اپنی خوشی اور مرضی پر منحصر رکھا تھا۔مارکر ، پیٹ کر اور سزا دے کر اس میں کسی کو شامل نہیں کرنا تھا۔پس اگر یہ خدائی ہاتھ نہیں تو اور کیا ہے کہ ایک دس سالہ تحریک کا آغاز کیا جاتا ہے اور اعلان کیا جاتا ہے کہ جو شخص اپنی مرضی اور خوشی سے اس میں شامل ہونا چاہے، وہی شامل ہو۔کسی پر جبر اور اکراہ نہیں۔مگر باوجود اس کے کہ جماعت بہت زیادہ ہے۔دس سالہ طویل تحریک میں اس میں شامل ہونے والوں کی تعداد پانچ ہزار کے ارد گر دہی چکر لگاتی رہتی ہے؟ جس طرح گھڑی کا پنڈولم ایک خاص مقام پر حرکت کرتا ہے اور مرکز کے ارد گرد چکر لگا تا رہتا ہے۔اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اس تحریک میں حصہ لینے والوں کی تعداد بھی پانچ ہزار سے اوپر چلی جاتی ہےاور کبھی پانچ ہزار سے نیچے چلی جاتی ہے۔گویا چکر پانچ ہزار کے ارد گر دہی لگاتی رہتی ہے۔بھلا کس انسان کی طاقت میں تھا کہ وہ ایسا کر سکے اور کون شخص اپنی تدبیر سے تعداد کو اسی محور پر رکھ سکتا تھا ؟ یہ محض خدا کی قدرت کا کرشمہ ہے اور اس واقعہ نے نہایت صفائی اور وضاحت کے ساتھ اس امر کو ثابت کر دیا ہے کہ در حقیقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس پیشگوئی کے مطابق اسلام کی فتح کی بنیاد، احمدیت کے غلبہ کی بنیاد محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نام کو دوبارہ زندہ کرنے کی بنیا د ازل سے تحریک جدید کے ساتھ وابستہ قرار دے دی گئی ہے۔ان پانچ ہزار سپاہیوں کی قربانیاں آئندہ دنیا میں کیا انقلاب پیدا کریں گی یا آئندہ یہ تحریک کیا شکل اختیار کرے گی اور اس تحریک کے کیا کیا نتائج رونما ہوں گے؟ ان سب باتوں کو اللہ ہی جانتا ہے۔ہمارا کام صرف اتنا ہے کہ اخلاص سے، محبت سے، انابت سے اطاعت کا کامل نمونہ دکھاتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی طرف پورے تضرع اور ابتہال کے ساتھ جھکتے ہوئے ، قربانیاں کرتے چلے جائیں۔اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہم نے اس فرض کو ادا کر دیا ہے، جو اس کی طرف سے ہم پر عائد کیا گیا تھایا اپنے فرض کو ادا کرنے کی بجائے خدانخواستہ اپنی غفلت اور نادانی سے اس کے عذاب کے مستحق ہو گئے ہیں۔ان سب باتوں کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ہم اس کی رحمت اور فضل کے امیدوار ہیں اور ہم اس سے یہی دعا کرتے ہیں 267