تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 255
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم خطبه جمعه فرموده یکم اکتوبر 3 وقف کے لئے نام پیش کرنے والے قیامت تک وقف ہیں خطبه جمعه فرموده یکم اکتوبر 1943ء سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔” میں نے آج عید کے خطبہ میں اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ موجودہ جنگ اللہ تعالٰی کی طرف سے اس بات کا قطعی فیصلہ ہے کہ موجودہ زمانہ کی دنیوی طاقتوں کو جو اسلام سے اختلاف رکھتی ہیں، تلوار سے مٹانا ظاہری سامانوں کے لحاظ سے ناممکن ہے۔لیکن تبلیغ اور روحانیت سے مٹانا ، نہ صرف ممکن ہی ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے موعود بھی ہے۔اس زمانہ میں اسلحہ جنگ کی کثرت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ تلوار جہاں تک اسلام کی ترقی اور غلبہ کا تعلق ہے قطعی طور پر ناکام رہے گی اور تبلیغ کامیاب ہوگی۔اور ہم دیکھتے ہیں کہ ظاہر علامتیں بھی ایسی ہیں، جو اسی بات پر دلالت کرتی ہیں کیونکہ دشمنان اسلام جہاں ظاہری ہتھیاروں اور مادی طاقتوں پر زیادہ سے زیادہ بھروسہ کر رہے ہیں، وہاں ان میں مذہبی یقین کم سے کم ہوتا ہے چلا جاتا ہے۔اگر ایک طرف مادی طاقت پر بھروسہ بڑھتا جاتا ہے تو دوسری طرف روحانی طاقت پر بھروسہ کم ہوتا جاتا ہے اور ہوشیار مخالف کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ مخالف کے قلعہ پر اس جگہ سے حملہ کرتا ہے، جہاں دیوار سب سے زیادہ کمزور ہو۔اس وقت اسلام کے دشمنوں کے قلعہ کی مادی دیواریں زیادہ سے زیادہ مضبوط ہیں۔البتہ روحانی دیوار میں خطر ناک رخنے ہیں اور کسی نادان کا ہی یہ کام ہوسکتا ہے کہ مضبوط چٹانوں اور دیواروں کے ساتھ سر پھوڑ تار ہے اور جہاں سے دیوار گری ہو، وہاں سے اندر داخل نہ ہو۔آج دشمن کا قلعہ مذہبی نقطہ نگاہ سے گر رہا ہے اور اس جہت سے بہت کمزور ہو چکا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ الہی منشاء ازل سے یہی تھا کہ اس زمانہ میں دونوں طاقتوں کو جمع کر کے ایک ایسا مضبوط قلعہ تیار کرنے کہ جو ہر طرح مکمل ہو۔دنیوی طاقت تو خودان قوموں نے قائم کر لی ہے اور روحانی طاقت احمدیت کے ذریعہ ان کومل جائے اور اس طرح ایک ایسا قلعہ تیار ہو جائے ، جس کی کوئی بھی دیوار کمزور نہ ہو۔اس کے لئے جہاں یہ ضروری ہے کہ جماعت کا ہر فر د تبلیغ کرے، وہاں ایک خاص جماعت کا ہونا بھی ضروری ہے، جو اسلام کے لئے اپنی زندگیوں کو وقف کر دے۔اس کی طرف میں نے جماعت کو متواتر توجہ دلائی ہے، کچھ نو جوان آگے بھی آئے ہیں مگر جس حد تک ضروری ہے، اس حد تک نہیں۔255