تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 4

اقتباس از خطبہ عیدالاضحیہ فرمودہ 20 جنوری 1940ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم اس کا بھی فرض ہوتا ہے کہ وہ لقاء الہی کو محفوظ رکھنے کے لئے برتن تیار کرے اور لقاء الہی کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ اولاد کی قربانی ہے۔جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے دین کے لئے اپنی اولاد کی قربانی کرتا ہے تو وہ عرفان کا دودھ اپنی نسل کے لئے محفوظ کر دیتا ہے اور جب اس نسل کو عرفان ملتا ہے اور وہ بھی اپنی اولاد کی قربانی کرتی ہے تو عرفان کا دودھ اگلی نسل میں منتقل ہو جاتا ہے۔اسی طرح جب تک لوگ اپنی اولاد کی قربانی کرتے چلے جاتے ہیں اللہ تعالی کا عرفان ان کے دلوں میں محفوظ رہتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ ہمیں یہ نسخہ بتایا ہے کہ جب تمہیں خدا ملے اور اس کا قرب حاصل ہو جائے تو اس کی رحمت اور برکت کو آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ کرنے کا ایک ہی ذریعہ ہوتا ہے اور وہ یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کے لئے اپنی اولا دوں کو قربان کر دو تب اُس کی رحمت کا دودھ بعد کی نسل کیلئے محفوظ ہو جاتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ اس اولا د کو عقل دیتا ہے اور وہ بھی اپنی اولا د کی قربانی پیش کر دیتی ہے تو اس سے انگلی نسل میں بھی یہ رحمت اور فضل کا دودھ محفوظ ہو جاتا ہے۔غرض جب تک نسلیں اپنی اولاد کی قربانی کرتی رہیں گی دین اور عرفان ان میں محفوظ رہے گا۔ی اولاد کی قربانی دو طرح ہوتی ہے : ظاہری رنگ میں تو اس طرح کہ اپنی اولاد کی اعلیٰ تربیت کی جائے ، ان میں دین کی محبت اور اس سے رغبت پیدا کی جائے اور انہیں علم دین سے واقف کیا جائے مگر اس کے علاوہ اولاد کی ایک خاص قربانی بھی ہوتی ہے اور وہ یہ کہ انسان اپنی اولاد کو اللہ تعالیٰ کے دین کی خدمت کے لئے وقف کر دے تا کہ جب تک وہ زندہ رہے اسلام کی خدمت کرتی رہے۔قربانی کے یہ دونوں رنگ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت میں پائے جاتے ہیں اور اس وقت ایک ہماری جماعت ہی ایسی ہے جس میں خدا تعالیٰ نے وقف زندگی کے سامان کئے ہوئے ہیں۔اور ایک ہماری جماعت ہی ایسی ہے جسے اولاد کی اعلیٰ تربیت کے سامان میسر ہیں۔مگر کتنے ہیں جوان سامانوں سے فائدہ اُٹھاتے ہیں؟ عید کے موقع پر خوشی منانے کے لئے تو بعض لوگ سب سے آگے آجاتے ہیں لیکن اگر وہ ابراہیم علیہ السلام کی طرح خدا تعالیٰ کے دین کیلئے اپنی اولاد کی قربانی نہیں کرتے اور اسے اسلام کی خدمت کے لئے وقف نہیں کر دیتے تو اُن کا کیا حق ہے کہ وہ اس خوشی میں شامل ہوں؟ جب کہ وہ ، وہ کام نہیں کرتے جو ابراہیم علیہ السلام نے کیا تھا؟ ابراہیم علیہ السلام کی خوشی میں شامل ہونے کا اسی کو حق ہے جو ابراہیم" جیسی قربانی بھی کرتا ہے۔بے شک یہ خوشی منانے کا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حق حاصل تھا ، جس نے خدا کے لئے ہر قسم کی قربانی میں حصہ لیا۔بے شک یہ خوشی منانے کا عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہ کوحق تھا، جنہوں نے 4